کرنل محمد خان کی مزاح نگاری
27 ویں برسی:ان کی پہلی کتاب’’بجنگ آمد‘‘ کی اشاعت اُردو ادب کا اہم واقعہ شمار ہوتا ہے:کرنل محمد خان کو ظرافت تک پہنچنے کیلئے کسی تمہید کا پل نہیں باندھنا پڑتا‘ واقعات کی گردن میں لطافت کی بجتی ہوئی گھنٹیاں بھی وہ آویزاں نہیں کرتے‘ اُن کا لطیف اور لچکیلا مزاح اُن کے اسلوبِ تحریر کا جزو ہے ، ان کے نقطہ نظر کی پیداوار ہے
مختصرسوانح
محمد خان ضلع چکوال کے خوبصورت قصبے بلکسر میں چوہدری امیر خان کے ہاں 5اگست 1910ء کو پیدا ہوئے۔ محمد خان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ دادا چوہدری اعظم خان ایک خوشحال زمیندار تھے۔ ان کا تعلق مغل کسرکی نسل سے تھا۔ والد کی وفات کم عمری میں ہو گئی مگر والدہ نے بہت محبت سے پرورش کی۔تعلیمی زندگی کا آغاز چوتھی جماعت سے ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول چکوال سے کیا۔ سکول میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی شاگردی نصیب ہوئی جو طلبہ میں ادبی ذوق بیدار کرنے کیلئے مشہور تھے۔
تعلیم :1927ء میں دسویں جماعت اول درجے میں پاس کرکے رول آف آنر حاصل کیا۔ مزید تعلیم کیلئے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیاجہاں ہیلی کالج ہاسٹل میں قیام کیا۔ یہاں فیض احمد فیض، ایم ڈی تاثیر اور محمود نظامی جیسے مشاہیر کی صحبت ملی۔1934ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اقتصادیات اور 1936ء میں بی ٹی کی ڈگری حاصل کی۔
پیشہ ورانہ خدمات :پہلے شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوئے۔ گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ، تلہ کنگ اور چکوال میں تدریسی فرائض انجام دیئے۔1939ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ سید ضمیر جعفری، چراغ حسن حسرت اور بریگیڈیئر گلزار احمد جیسی ادبی شخصیات کی رفاقت ملی۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران بصرہ، رنگون اوربرما میں خدمات انجام دیں۔قیام پاکستان کے بعد آرمی ایجوکیشن کور سے وابستہ رہے۔۔29سال تک فوجی خدمات انجام دے کر 1969ء میں ریٹائر ہوئے۔
ادبی خدمات :ریٹائرمنٹ کے بعد تحریر و تخلیق میں مصروف ہو گئے۔ان کی مشہور تصانیف میں ’’بجنگ آمد‘‘ (1966ء)، ’’بسلامت روی‘‘ (1975ء)، ’’بزم آرائیاں‘‘ (1980ء) اور’’ بدیسی مزاح‘‘ شامل ہیں۔1981ء سے 1990ء تک اردو پنج (طنزو مزاح کا جریدہ) کی اشاعت میں سید ضمیر جعفری ،ڈاکٹر صفدر محمود اور سلطان رشک کے ساتھ بھرپورتعاون کیا۔
آخری ایام:23اکتوبر1999ء کو دنیا سے رخصت ہوئے اور آبائی قصبے بلکسر میں سپرد خاک ہوئے۔
ضلع جہلم کے سنگلاخ ، نیلے بھورے کوہستانوں میں سمٹی اور پھیلتی ہوئی وادی، جس میں کرنل محمد خان پیدا ہو کر پروان چڑھے ہیں، ایک خاص وضع و انداز کے ’’محمد خانوں‘‘ کی سرزمین ہے۔ یہ حساب تو مجھے معلوم نہیں کہ محمد خان اول نے کس زمانے میں اس دھرتی پر قدم رکھا تھا البتہ گردشِ ایام کی رکاب تھام کر جتنی دور بھی پیچھے کی طرف دوڑ سکا ہوں ہر پشت کا پیشہ سپہ گری نظر آتا ہے۔ زراعت میں ملی ہوئی سپہ گری۔ اپنی مخصوص روایات میں دھن کا یہ دھنوان خطہ ، جیالے سپاہی، جی دار کاشتکار اور جہانِ گندم و جو کے تابدار شگوفے پیدا کرنے کے لیے صدیوں سے مشہور و ممتاز چلا آتا ہے۔ آج بھی یہاں کا ہر محمد خان، قریب محمد خان اوّل ہی کے سانچے میں ڈھلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہی تندرست و توانا محمد خان جس کا ایک ہاتھ ہل کی ہتھی پر رہتا ہے اور دوسرا قبضۂ شمشیر پر۔ جو گبھرو ہونے پر یا علی کا نعرہ لگا کر پہلے عموماً ’’ پڑ کو ڈی‘‘ کے لمبے چوڑے ’’ پڑوں اکھاڑوں میں دھو میں مچاتا ہے اور پھر وردی پہن کر ’’ڈھول سپاہی‘‘ کے روپ میں وطن عزیز کے مقدس پرچم کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں سنبھال لیتا ہے۔ بانکا، جڑی، جیالا ! سخت جان و سخت کوش !اگر گھروں کی پیشانی پر ماٹو لکھنے کا رواج ہو تا تو اس وادی کے اونچے نیچے ، کچے پکے ہر گھر کے دروازے پر نظیری کا یہ مصرع مر قوم ہوتا:
کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلۂ ما نیست!
مگر یہ شیر دل لوگ ماٹو لکھنے کے بجائے اپنے خون سے زندگی کی تاریخ لکھنے کے قائل ہیں۔ شعر و ادب کا افق یہاں ہمیشہ ہی سے کچھ دھندلا دھندلا سارہا ہے۔ قبائے علم و ہنر یہ لوگ کم ہی پہنتے ہیں۔ پہنتے بھی ہیں تو جسم کے اوپر نہیں پہنتے، روح کے اندر پہنتے ہیں۔ کرنل محمد خان، انہیں میں سے ایک ہیں۔ ماحول یا ورثے کے اعتبار سے ان کے ادیب بنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا، مگر وہ جو علامہ اقبال نے کہا ہے۔ کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی ! تو ہمارے دوست محمد خان کی شخصیت کی تشکیل کو فطرت ہی کی حنابندی کا معجزہ سمجھنا چاہیے۔ چنانچہ ان کی ذات میں دو الگ الگ ، لیکن اپنی اپنی جگہ پر بھر پور شخصیتیں کار فرما نظر آتی ہیں۔ ایک تو وہی ہل اور تلوار والا محمد خان ! کم سخن و کم آمیز ! نہ ادائے کافرانہ نہ تراش آزرانہ ! کھیت میں جت جائے، تو چٹانوں سے جوئے شیر کھینچ لائے۔ تلوار اٹھا لے تو نہنگوں کے نشیمن تہ و بالا کر کے رکھ دے۔ وطن کا مان ، ملت کی آبرو!دوسرا محمد خان وہ ہے کہ اس سادے مرادے دیہاتی نام سے اُس کے ذہن و فکر کی شادابی اور براقی کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ادیب اور انشا پر داز محمد خان ہے۔ نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو !مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں محمد خان ایک دوسرے کی نفی نہیں، تائید کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو کمک پہنچاتے ہیں، کیونکہ دونوں کی جڑیں ایک ہی مٹی میں پیوستہ ہیں۔ محمد خان سپاہی ہو، کاشتکار ہو ، ادیب ہو، دوست داری اور مہر و محبت میں دونوں یکساں گرمجوش ہیں۔
دوسری جنگ عالمگیر شروع ہوئی تو علاقہ دھنی کا یہ نیم لفٹین اپنی روایات کے مطابق فوج کی صفوں میں شامل ہو گیا لیکن یونیورسٹی کی اپنی تمام تر تعلیم کے باوجود ہنوز ہل اور تلوار والا محمد خان ہی تھا۔ ایک مدت تک بصرہ اور شائبہ ، بغداد اور موصل، قاہرہ اور طبروق میں گھومنے کے بعد جب وہ اپنے وطن میں واپس آیا تو ایک محمد خان کے جسم پر میدانِ جنگ کے تمغوں کی قطار سجی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر سپاہیانہ صلاحیت کا وقار اور بانکپن روشن تھا۔ یہ وہ محمد خان تھا جو اب کر نیل کی وردی میں نظر آتا ہے، لیکن اس عرصے میں اُس کے اندر ادیب محمد خان بھی بیدار ہو کر بالغ ہو چکا تھا۔ ادیب محمد خاں الف لیلی کی گلیوں اور مصر کے بازاروں اور شام کیارہ کے صحراؤں سے ایک بھر پور سانولی سلونی اجنبی زندگی کے موتی رول لایا تھا۔’’بجنگ آمد ‘‘ میں انہیں خوابوں، رنگوں، ستاروں اور مسکراہٹوں کی بارات فروزاں نظرآتی ہے۔۔ کرنل محمد خان کو ظرافت تک پہنچنے کے لیے کسی تمہید کا پل نہیں باندھنا پڑتا۔ نہ وہ قہقہوں کے جزیرے آباد کرتے ہیں۔
واقعات کی گردن میں لطافت کی بجتی ہوئی گھنٹیاں بھی وہ آویزاں نہیں کرتے۔ اُن کا لطیف اور لچکیلا مزاح اُن کے اسلوبِ تحریر کا جزو ہے ، ان کے نقطہ نظر کی پیداوار ہے۔ ان کی ظرافت کسی دلاویز خیابان میں ہنستی مسکراتی ، گنگناتی ہوئی ندی کی طرح بہتی چلی جاتی ہے اور اپنے بہاؤ کے طلسم میں کناروں کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔انسانوں کی طرح کتابیں بھی قسام قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً بزرگ کتابیں، نادان کتابیں وغیرہ وغیرہ۔ ’’بجنگ آمد‘‘ ایک دوست کتاب ہے یعنی ایسی کتاب جس پر دل ٹوٹ کر آجائے۔ جس کے ساتھ وقت گزار کر آدمی دلی راحت محسوس کرے۔ جس سے بار بار گفتگو کرنے کو جی چاہے۔ دوست، جو خوش رُو بھی ہے، خوش مذاق بھی۔ شوخ بھی ہے اور دلنواز بھی۔ ذہین بھی اور فطین بھی اور ہنس مکھ اتنا جب دیکھیے ہو نٹوں پر ہنسی آئی ہوئی سی!
(کرنل محمد خان کی پہلی کتاب’ بجنگ آمد‘ کا دیباچہ)
من آنم(مقدمہ،بسلامت روی ایک دلچسپ اقتباس)
چند روز ہوئے ایک پروفیسر صاحب کا خط آیا۔ لکھا تھامحترمی کسی نے آپ کی ’بجنگ آمد‘ کو بھی سکول میں پہنچا دیا ہے یعنی اس کا ایک باب انٹرمیڈیٹ کے نصاب اُردو میں شامل کردیا ہے، لیکن مرتبین مرقع نے آپ کا تعارف صرف دو سطروں میں کرایا ہے۔ جو طلبا کیلئے ناکافی ہے۔ پچھلے امتحان میں ایک سوال پوچھا گیا تھا۔’’بجنگ آمد‘‘ کے مصنف کے حالاتِ زندگی دس سطروں میں بیان کرو‘‘ ایک امیدوار کا جواب ملاحظہ ہو: محمد خان کے بچپن کے حالات پر تاریکی کا پردہ پڑا ہوا ہے، جب جوان ہوا تو دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی اور یہ سکول سے بھاگ کر فوج میں بھرتی ہو گیا اور نیم لیفٹین ہو کر مصر جا پہنچا۔جنگ ختم ہو گئی تو اسے فوج سے نکال کر گھر بھیج دیا گیا۔ اس نے غصے میں آکر ڈاکے ڈالنے شروع کردیئے مگر ڈاکوشریف نکلا، یعنی امیروں کو لوٹا اور غریبوں میں بانٹ دیا۔ حکومت کو یہ بات اچھی نہ لگی اور اس کے پیچھے پولیس لگا دی گئی۔ آخر ایک بھیدی نے اسے پکڑوا دیا اور صدر ایوب نے اسے جیل میں ڈال دیا۔ جب اس نے دیکھا کہ جیل سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو تنگ آکر ’بجنگ آمد‘ لکھ ڈالی ۔ ختم کرنے سے پہلے پروفیسر صاحب نے لکھا ’’ مجھے شبہ ہے کہ آپ کے سوانح حیات میں کسی مقام پر آپ کا کوئی ہمنام شریک ہو گیا ہے۔ براہ کرم ہمیں حالاتِ زندگی لکھ کر ممنون فرمائیں، ورنہ طلبا کو 15نمبروں کا گھاٹا رہے گا۔‘‘
(’’بزم آ رائیاں‘‘ سے اقتباس)
جب میرے دوست، اجنبی حضرات سے میرا تعارف بطور مصنف’’ بجنگ آمد ‘‘کراتے ہیں تو بالعموم مجھے تین قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ایک وہ جو یہ کتاب پڑھ چکے ہیں۔ دوسرا وہ جنہوں نے پڑھی تو نہیں مگر اس کے متعلق کچھ سُن رکھا ہے۔ تیسرے وہ جنہوں نے دیکھی ہے نہ سنی بلکہ اپنی چیک بک کے سوا کسی بک سے آشنا ہی نہیں۔پہلی قسم کے کرم فرمائوں سے کوئی تعارف کرائے تو وہ کسی قدر شوق اور شفقت بلکہ بعض اوقات تپاک سے مصافحہ کرتے ہیں اور ملاقات ہو جانے پر اظہارِ مسرت فرماتے ہیں مگر دوسری قسم سے تعارف کرانے پر انہیں ہمارا نام یوں لگتا ہے جیسے کبھی خواب میں سنا ہو مگر مروت میں آکر اظہارِ مسرت کا بھی تھوڑا سا انتظام کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’’ اچھا، تو آپ ہیں جنہوں نے ’’ تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ لکھی ہے۔ ماشاء اللہ کیا عمدہ کتاب ہے‘‘۔ مجھے بارہ سالوں کے تجربے سے یقین ہو گیا ہے کہ جب بھی کوئی مہربان اجنبی کتاب کے نام پر پورا محاورہ ۔۔۔ تنگ آمد بجنگ آمد۔۔۔ صرف کر دیتے ہیں تو انہوں نے کتاب کے متعلق کچھ سنا ضرور ہوتا ہے، لیکن پڑھی نہیں ہوتی۔ فقط ایک ملائم سا دروغ مصلحت آمیز بول کر میرا دل رکھتے ہیں۔ گو دل رکھنا بھی بڑی نیکی ہے۔
ایک دلچسپ واقعہ
’’ بزم آ رائیاں ‘‘میں اپنے نام کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرا نام محمد خان ہے لیکن ادبی حلقوں خصوصاً ناشروں نے میرے عہدے کو بھی میرے نام کا حصہ بنا دیا ہے۔ لیکن جیسے بعض سکھوں کا نام کرنیل سنگھ ہوتا ہے بے شک میری کرنیلی سردار جی کی کرنیلی سے زیادہ اصلی یا جینوئن ہے اور مجھے اس کی علیحدہ خوشی اور فخر ہے، تاہم حصۂ نام کے طور پر میں اس سے علیحدگی چاہتا ہوں اور اس کیلئے آپ کے تعاون کا خواستگار ہوں۔ ممتازعلوی صاحب لکھتے ہیں، میں مری کے پنڈی پوائنٹ پر سیر کر رہا تھا کہ اچانک آپ کے بنگلے کے سامنے سے گزر ہوا۔ گیٹ کی تختی پر جلی قلم سے کرنل محمد خاں لکھا ہوا تھا۔سوچا کیوں نہ دو گھڑی گپ لگائیں اور مل کر چائے پئیں۔ اندر گیا، نوکر سامنے آیا، پوچھا: کرنل صاحب گھر پر ہیں؟ بولا: جی ہاں۔ آپ ڈرائنگ روم میں تشریف رکھیں میں انہیں خبر کرتا ہوں۔ پھر کرنل صاحب آئے، بڑے پیارے آدمی تھے مگر وہ آپ نہ تھے۔ یہ صاحب مغالطے پر ذرا برہم نہ ہوئے، بڑے تپاک سے ملے، تواضع کی اور جب اٹھنے لگا تو بولے:اس گرما میں آپ کرنل محمد خان(مصنف) کے چوتھے مہمان ہیں جو میری چائے پی کر جا رہے ہیں۔ اس شخص کو جا کر مشورہ دیں کہ یا تو اپنا نام بدل دے ورنہ چائے کے بل ادا کرے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments