آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)
اسپیشل فیچر
٭...محمد قوی خان 13 نومبر 1942ء کوشاہجہاں پور (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔
٭... قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی سکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی۔
٭...سکول اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے ریڈیو سے رغبت ہوئی اور تھیٹر کی طرف مائل ہوئے۔
٭... 1952میں فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ سٹارپروگرام ''ننھے میاں‘‘ سے کیا۔کئی سال تک اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے۔
٭... لاہور میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو انہیں اس کے پہلے ڈرامے ''نذرانہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ براہ راست نشر ہونے والے اس ڈرامہ میں ان کے مقابل کنول نصیر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔
٭...1964ء میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ''رواج‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 35سال تک فلموں میں کام کیا ان کے کریڈٹ پر 250فلمیں ہیں۔
٭...زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ، اولڈ ، ولن اور کامیڈین کے طور پر بھی کردار نبھائے لیکن کبھی سولو ہیرو نہیں آئے۔
٭... تادمِ مرگ ٹیلی وژن سے وابستہ رہے، یہ عرصہ لگ بھگ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔
٭... سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے ''اندھیرا اجالا‘‘ سے ملی۔
٭...1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا ، کامیاب نہ ہوسکے۔
٭... 1990ء کی دہائی میں ایک ڈرامے کیلئے مرزا غالب کا کردار بھی نبھایا اوراسے امرکردیا۔
٭... بطور پروڈیوسر 13فلمیں بنائیں،کچھ فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں جن میں پاسبان، اور روشنی وغیرہ شامل ہیں۔
٭...1980 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ جبکہ 2012ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔
٭...5 مارچ 2023ء کو کینیڈا میں 80 سال کی عمر میں سرطان سے انتقال ہوا۔ میڈوویل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
قوی خان کی مقبول فلمیں:
محبت زندگی ہے ، ٹائیگر گینگ ، سوسائٹی گرل، سرفروش ، کالے چور، آج اور کل ، صائمہ، بیگم جان ، ناگ منی، رانگ نمبر ، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان ، پری، قائداعظم زندہ باد ، چراغ کہاں روشنی کہاں ، پازیب، مسٹربدھو‘، بے ایمان ، منجی کتھے ڈاہواں ، نیلام، روشنی ، پہچان ، وطن ،جوانی دیوانی ، چوری چوری، محبت مر نہیں سکتی ۔
مقبول ڈرامے:
لاکھوں میں تین، دہلیز، الف نون، دورِ جنوں، اندھیرا اُجالا، انگار وادی، اُڑان، آشیانہ، سسر اِن لا، لاہوری گیٹ، مٹھی بھر مٹی، منچلے، مشعل، بیٹیاں، داستان، میرے قاتل میرے دلدار، پھر چاند پہ دستک، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، جو چلے تو جان سے گزر گئے، دُرِ شہوار، کلموہی، دو قدم دور تھے، حیا کے دامن میں، یہ عشق، سہیلیاں، نظرِ بد، الف اللہ اور انسان، خانی، آنگن، پرچھائیں، میراث۔