ہڑپہ کا سکوت اور لسانیاتی معمہ
اسپیشل فیچر
کیا تاریخ کے راوی شعوری طور پر مٹا دیے گئے؟
برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے عظیم الشان آثارِ قدیمہ ہمیشہ کسی 'حادثے‘ کی صورت میں دریافت ہوئے؛ کبھی ریلوے لائن بچھاتے وقت اینٹیں مل گئیں تو کبھی زمین کھودتے ہوئے مہریں۔ لیکن ان دریافتوں سے بڑا المیہ وہ خاموشی ہے جو ہڑپہ کی پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب کے گرد لپٹی ہوئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ دہائیوں سے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تہذیب یا تو طغیانی کی نذر ہوگئی یا کسی نامعلوم حملہ آور کی سفاکیت نے اسے مٹا دیا، یا پھر خشک سالی نے اسے نگل لیا۔ مگر ایک محقق کے طور پر میرا سوال ان تمام نظریات کی بنیادوں کو چیلنج کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی تہذیب کا ایک بھی راوی یا قصہ گو نہ بچا ہو؟
تعمیر ِ نو کی جبلت اور ارتقا کا تضاد
تاریخ گواہ ہے کہ انسان کی جبلت تعمیرِ نو ہے، تخریب نہیں۔ اگر ہڑپہ کا انسان اتنا ایڈوانس تھا کہ اس نے پانی کے بہا ؤکو کنٹرول کر رکھا تھا اور شہر سازی کا وہ نظام وضع کیا جو آج کے جدید شہروں کو ٹکر دیتا ہے تو وہ ذہنی طور پر اتنا پسماندہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک آفت سے اس کا نام و نشان مٹ جاتا۔ فرض کیجیے کہ دریا کے کنارے میرا گھر ہے اور طغیانی میرا سب کچھ بہا لے جاتی ہے، تو میں بحیثیت ایک ترقی یافتہ انسان جہاں بھی ہجرت کروں گا وہاں اپنے ہنر اور اپنی ضرورت کے مطابق ویسا ہی یا اس سے بہتر گھر تعمیر کروں گا۔مگر ہڑپہ کے بعد ہمیں برصغیر میں ایک طویل عرصے تک صرف کچی بستیوں اور پسماندہ طرزِ زندگی کے آثار ملتے ہیں۔ یہ ارتقانہیں بلکہ تنزلی ہے۔ کیا ایک انجینئر قوم ہجرت کر کے اچانک اپنی پانچ ہزار سالہ مہارت بھول سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بغداد کی مثال ہمارے سامنے ہے؛ ہلاکو خان نے اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر علم، زبان اور تہذیبی اثرات نہیں مرے۔ 1947 ء کے بٹوارے نے لاہور کے باشندوں کو جدا کر دیا مگر لاہور کی روح آج بھی زندہ ہے۔ پھر ہڑپہ کا راوی اتنی صفائی سے غائب کیسے ہو گیا؟
لسانیاتی سراغ: ہڑپہ سکرپٹ کے حروف سے جدید الفاظ تک
ہڑپہ کے سکوت کو توڑنے کے لیے ہمیں ان کی مہروں پر موجود علامات کو بے جان تصویروں کے بجائے زندہ آوازوں کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم تقابلی لسانیات کا سہارا لیں تو ہڑپہ سکرپٹ کی پرتیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مہروں پر کثرت سے نظر آنے والی مچھلی کی علامت محض ایک نقش نہیں بلکہ ایک صوتی علامت ہے۔ قدیم دراوڑی زبانوں میں اسے مین(Meen) کہا گیا جس کا گہرا تعلق فارسی کی اصطلاح 'چشمِ ماہی سے ملتا ہے۔ اسی طرح مہروں پر موجود آنکھ کی شکل براہِ راست سامی رسم الخط کے حرف عین(Ayin) کی یاد دلاتی ہے جو بصارت اور چشمے دونوں کے لیے مستعمل رہا ہے۔
تجارت کے حوالے سے اگر ہم مہروں پر موجود ظرف یا پیالے کی شکل کو دیکھیں تو یہ ہمیں قدیم فارسی کے پیالہ اور سنسکرت کے کمبھ تک لے جاتی ہے۔ یہ نشانات دراصل تجارتی پیمانوں اور ملکیت کی نشاندہی کرتے تھے جن کا ذکر ہمیں میسوپوٹیمیا کے ریکارڈز میں بھی ملتا ہے۔ حتیٰ کہ پیپل کے پتے کا نقش بھی محض عقیدت کا نشان نہیں بلکہ قدیم اصطلاحات پیپل یا امرم کے ذریعے خوراک اور نباتیات کے ایک وسیع نظامِ فکر کو واضح کرتا ہے۔ یہ تمام صوتی جڑیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہڑپہ کا انسان اپنی زبان سمیت ہمارے اندر ہی کہیں موجود ہے۔
شاہ عالم مارکیٹ کا کلیہ اور قدیم فارسی کا اشتراک
ہڑپہ محض ایک شہر نہیں اپنے دور کا عالمی تجارتی مرکز تھا۔شاہ عالم مارکیٹ کا مفروضہ یہاں صادق آتا ہے۔ آج کے لاہور کی شاہ عالمی مارکیٹ کی ڈوریاں کابل، تہران اور دہلی سے جڑی ہیں۔ ہڑپہ کی تباہی کا اصل سراغ ہمیں ہڑپہ کی مٹی سے زیادہ میسوپوٹیمیا کے ان قدیم ریکارڈز میں ڈھونڈنا چاہیے جہاں کے تاجروں نے ضرور لکھا ہوگا کہ مشرق کے اس عظیم مرکز سے تانبا یا کپاس آنا کیوں بند ہوئی۔
ہڑپہ کی زبان کو سمجھنے کی کلید اُن صوتی مماثلتوں میں ہے جو قدیم فارسی اور سنسکرت میں آج بھی موجود ہیں۔خاندانی رشتے: فارسی کا پدر اور سنسکرت کا پتر،فارسی کا مادراور سنسکرت کا ماترایک ہی اصل سے ہیں۔ اعضائے جسمانی: سرکو فارسی میں شیر اور سنسکرت میں شر جبکہ آنکھ کو فارسی میں چشم اور سنسکرت میں چکشس کہا جاتا ہے۔
ایک تہذیبی قتلِ عام یا شعوری خاموشی؟
حقیقت یہ ہے کہ ہڑپہ کی کہانی مٹی نہیں ہوئی بلکہ اسے شعوری طور پر خاموش کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی ہجرت ہے جس کے نقشِ قدم شاید ہم نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیے۔ تاریخ کی یہ خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ وہ لوگ مرے نہیں تھے بلکہ شاید ہم نے ان کی زبان اور ان کی وراثت کو کسی اور نام سے موسوم کر کے اصل حقیقت پر پردہ ڈال دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہڑپہ کو صرف اینٹوں کا ڈھیر نہ سمجھیں بلکہ اس گمشدہ دماغ کو تلاش کریں جو پانچ ہزار سال پہلے بھی ہم سے زیادہ روشن خیال تھا۔