کوانٹم بیٹری:کیا واقعی لمحوں میں چارج ہوگی؟
اسپیشل فیچر
سائنس کی دنیا میں توانائی کے ذخیرے کو ہمیشہ ایک بنیادی چیلنج سمجھا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون سے لے کر برقی گاڑیوں تک ہر جگہ بیٹری ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ مگر روایتی بیٹریوں خاص طور پر لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں، جیسا کہ چارج ہونے میں وقت، محدود صلاحیت اور وقت کے ساتھ کارکردگی میں کمی۔ ایسے میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی کوانٹم بیٹری کی خبر نے عالمی سطح پر سائنسی حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک ایسی تجرباتی کوانٹم بیٹری تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو روایتی اصولوں کے برعکس نہ صرف انتہائی تیزی سے چارج ہو سکتی ہے بلکہ اس کی کارکردگی میں ایک حیران کن خصوصیت بھی دیکھی گئی ہے کہ جتنی بڑی بیٹری اتنی ہی تیز چارجنگ۔ یہ تصور کلاسیکل فزکس کے اصولوں سے بالکل مختلف ہے، جہاں بیٹری کا سائز بڑھنے کے ساتھ چارجنگ وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔
کوانٹم بیٹری بنیادی طور پر روایتی کیمیائی ردعمل کے بجائے کوانٹم فزکس کے اصولوں پر کام کرتی ہے۔ اس میں توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایٹمی یا ذیلی ایٹمی سطح پر روشنی اور مادے کے درمیان تعامل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کے نظام،جسے مائیکروکیویٹی (microcavity) کہا جاتا ہے،میں روشنی کو قید کر کے توانائی جذب کرنے کا عمل ممکن بنایا۔ اس دوران پولیریٹونز (polaritons) نامی ہائبرڈ ذرات تشکیل پاتے ہیں جو روشنی اور مادے کی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں اور توانائی کو انتہائی مؤثر انداز میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ایک مکمل چارج-ڈسچارج سائیکل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یعنی بیٹری کو نہ صرف چارج کیا گیا بلکہ اس میں محفوظ توانائی کو دوبارہ استعمال بھی کیا گیا۔ اس سے قبل کوانٹم بیٹری کے نظریات تو موجود تھے مگر عملی طور پر توانائی کو خارج (discharge) کرنے کا مرحلہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔تقریباً فوری چارجنگ کی اصطلاح اس تحقیق کے تناظر میں استعمال کی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ بیٹری کو انتہائی مختصر وقت حتیٰ کہ فیمٹو سیکنڈز (ایک سیکنڈ کا کھربواں حصہ)میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہوتا ہے ایک کوانٹم مظہر کے ذریعے جسے سپر ابسورپشن(super absorption) کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں متعدد ذرات اجتماعی طور پر توانائی جذب کرتے ہیں جس سے چارجنگ کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔تاہم اس ساری پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اس وقت جو کوانٹم بیٹری تیار کی گئی ہے وہ نہایت معمولی مقدار میں توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے اور وہ بھی صرف چند نینو سیکنڈز کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال یہ بیٹری کسی بھی عملی استعمال مثلاً موبائل فون یا الیکٹرک گاڑی کو چلانے کے قابل نہیں ۔ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوری استعمال ممکنہ طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہو سکتا ہے جہاں انتہائی تیز اور مختصر دورانیے کے توانائی کے پلسز درکار ہوتے ہیں۔
مستقبل میں اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی جائے اور اسے بڑے پیمانے پر قابلِ عمل بنایا جا سکے تو یہ توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے۔تصور کریں کہ آپ کا موبائل فون چند سیکنڈز میں مکمل چارج ہو جائے یا الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے میں گھنٹوں کے بجائے چند لمحے لگیں۔ یہ سب کچھ فی الحال سائنس فکشن محسوس ہوتا ہے مگر کوانٹم بیٹری کی تحقیق اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوانٹم بیٹری کا تصور گزشتہ ایک دہائی سے سائنسی نظریات کا حصہ رہا ہے مگر اب پہلی بار اس کی عملی جھلک سامنے آئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوانٹم فزکس نہ صرف نظریاتی میدان تک محدود نہیں بلکہ عملی ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔نتیجتاً کوانٹم بیٹری کو فی الحال ایک سائنسی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے نہ کہ فوری طور پر قابلِ استعمال ٹیکنالوجی کے طور پر۔ اس تحقیق نے اگرچہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کو ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کے روایتی اصولوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے مگر اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بننے میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔اگر آنے والے برسوں میں سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ پوری ٹیکنالوجی کی دنیا کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔ فی الحال یہ کہنا درست ہوگا کہ کوانٹم بیٹری مستقبل کی ایک امید ضرور ہے مگر وہ مستقبل ابھی کچھ فاصلے پر ہے۔