20سال بعد نئی نیشنل سپورٹس 2026 پالیسی کا مسودہ تیار
20سال بعد نئی نیشنل سپورٹس 2026 پالیسی کا مسودہ تیار فیڈریشنز اور پی او اے کو خود مختاری دینے کا فیصلہ،کارکردگی کا ہر 3ماہ بعد جائزہ
لاہور(سپورٹس ڈیسک )وفاقی حکومت نے 20 سال بعد نئی نیشنل سپورٹس پالیسی 2026 کا مسودہ تیار کرلیا، نئی سپورٹس پالیسی میں قومی سپورٹس فیڈریشنز اور پی او اے کو خود مختاری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مجوزہ سپورٹس پالیسی کے تحت فیڈریشنز اپنے معاملات آزادانہ طور پر اپنی ملحقہ تنظیم کے آئین کے تحت چلا سکیں گی، 18ویں ترمیم کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر سپورٹس پالیسی کا حصہ بنانے کی تجویز ہے ۔سپورٹس کے انتظامی امور چلانے کیلئے نیشنل سپورٹس کو آرڈینیشن کونسل بنانے کی تجویز بھی ہے ۔
نئی سپورٹس پالیسی میں سپورٹس ڈیویلپمنٹ فنڈ قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔صوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کا کم از کم 2 فیصد کھیلوں پر خرچ کرنے کی تجویز ہے ۔ سپورٹس لیگز، اکیڈمیز اور انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔نئی سپورٹس پالیسی میں پروفیشنل لیگز اور سپورٹس براڈ کاسٹنگ بڑھانے پر زور دیا گیا ہے ۔ مجوزہ پالیسی میں سکول اور کالج سطح پر لازمی کھیلوں کے مقابلوں کی سفارش کی گئی ہے جبکہ قومی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ سسٹم اور ایتھلیٹس ڈیٹا بیس بنانے کی تجویز ہے ۔نئی سپورٹس پالیسی میں کھلاڑیوں کیلئے کنٹریکٹس، میڈیکل انشورنس اور پنشن سکیم کی تجویز ہے ۔ سپورٹس سائنسز، سپورٹس میڈیسن اور ڈیٹا اینالسز ادارے قائم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔قومی سپورٹس فیڈریشنز کی کارکردگی کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا۔ نئی سپورٹس پالیسی 2026 کا مقصد کھیلوں کے نظام کو بیورو کریسی سے خود مختاری کی طرف لے جانا ہے ۔