پی سی بی کا تینوں فارمیٹ کی ٹیمیں الگ کرنیکا پلان

پی سی بی کا تینوں فارمیٹ کی ٹیمیں الگ کرنیکا پلان

فوری طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی کی ٹیمیں تو الگ کرنا ہی پڑیں گی، 6فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والا ٹیسٹ کیٹیگری سینٹرل کنٹریکٹ کا اہل ٹی ٹونٹی ٹیم میں تبدیلیاں ضروری، کھلاڑیوں کو مجبور کرینگے کہ جو آپ کا فارمیٹ ہے اس پر رہیں ،ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب

لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے کہا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ ہر فارمیٹ کی ٹیم الگ کرنے کی طرف پہلا قدم ہے ، یہ ابھی پہلا قدم ہے ، ہر فارمیٹ کی ٹیم الگ ہو سکتی ہے ۔ایک انٹرویو میں عاقب جاوید نے کہا کہ فوری طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی کی ٹیمیں تو آپ کو الگ الگ کرنا ہی پڑیں گی، ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی فارمیٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔انہوں نے کہا کہ فارمیٹ کی بنیاد پر سینٹرل کنٹریکٹ دینے سے قبل کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہو جاتی تھی، صرف ٹیسٹ کھیلنے والے کرکٹرز کا موازنہ ٹی ٹونٹی کھیلنے والے کرکٹرز سے کیا جاتا تھا، اب اگر کوئی صرف ٹیسٹ کھیلتا ہے تو اس کا مقابلہ ٹیسٹ کھیلنے والے سے ہو گا اور اس کی بنیاد پر معاوضہ ملے گا۔عاقب جاوید نے کہا کہ 6 فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والا ٹیسٹ کیٹیگری کے سینٹرل کنٹریکٹ کا اہل ہو گا، ٹیسٹ اور ون ڈے کیٹیگری کیلئے 4 فرسٹ اور 4 لسٹ اے میچز لازمی ہوں گے ، ٹیسٹ والوں کو این او سی بیرونِ ملک 4 روزہ مقابلوں کے لیے ملیں گے ۔انہوں نے کہاکہ ٹیسٹ اور ون ڈے کیٹیگری والوں کو 1 فرنچائز این او سی مل سکتا ہے ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کیٹیگری والوں کو 2 لسٹ اے میچز اور 10 ٹی ٹونٹی کھیلنا ہوں گے جبکہ 2 این او سی ملیں گے ، صرف ٹی ٹونٹی والوں کو ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی کھیلنا لازمی ہو گا، اس کے علاوہ فرنچائز کرکٹ کھیل سکتے ہیں، ہم کھلاڑیوں کو مجبور کریں گے کہ جو آپ کا فارمیٹ ہے اس پر رہیں ۔ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا کہ ٹی ٹونٹی ٹیم میں تبدیلیاں تو کرنا پڑیں گی، ابھی ایشیاء کپ کی ٹیم سب کے سامنے ہے ، سینٹرل کنٹریکٹ کا مقصد ہی کمٹمنٹ ہے ، کمٹمنٹ یہی ہے کہ آپ انٹرنیشنل کے ساتھ ڈومیسٹک بھی کھیلیں گے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں