جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رمضان کا چاند کیسے دیکھا جاتا تھا

جدید ٹیکنالوجی سے پہلے رمضان کا چاند کیسے دیکھا جاتا تھا

لاہور(نیٹ نیوز)اسلامی مہینوں کا تعین قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے جو سورج کے بجائے چاند کی گردش پر مبنی ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ہر اسلامی مہینہ چاند کی رویت سے شروع ہوتا ہے اور 29 یا 30 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ چوں کہ اسلام میں چاند کو انسانی آنکھ سے دیکھنا لازمی ہے اس لیے قدیم دور میں چاند دیکھنے کا سب سے بنیادی طریقہ یہ تھا کہ لوگ اونچے مقامات پر جمع ہو کر آسمان پر چاند تلاش کرتے تھے ۔چاند دیکھنے کے لیے مساجد کے میناروں یا شہر کے باہر اونچی پہاڑیوں پر مشاہدہ گاہیں بنائی جاتی تھیں۔ لوگ چاند نظر آنے پر ڈھول بجا کر یا آگ جلا کر چاند نظر آنے کا اعلان کرتے تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے بغداد میں آٹھویں صدی میں ‘بیت الحکمت’ یا ‘ہاؤس آف وِزڈم’ قائم کیا ،انہوں نے بتایا کہ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی اُفق سے بلندی اور سورج و چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ہونا چاہیے کہ چاند انسانی آنکھ سے نظر آ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں