نظام شمسی کے اختتام پر فلکیاتی جسم کا زمین جیسا ماحول
لاہور(نیٹ نیوز)نظامِ شمسی کے انتہائی سرد اور پراسرار بیرونی حصے میں ایک غیرمعمولی دریافت نے فلکیات کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرینِ فلکیات نے نیپچون سے بھی آگے موجود ایک برفانی جسم پر ایسی فضا کے شواہد دریافت کیے ہیں جو اب تک صرف پلوٹو جیسے بڑے اجسام تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ اس حیران کن انکشاف نے نظامِ شمسی کے آخری کناروں سے متعلق کئی پرانے تصورات بدل دئیے ہیں۔سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع تحقیق کے مطابق یہ خلائی جسم کوائپر بیلٹ میں واقع ہے اور اسے ٹرانس نیپچونین آبجیکٹ قرار دیا جاتا ہے ۔ اندازہ ہے کہ اس فضا میں میتھین، نائٹروجن یا کاربن مونو آکسائیڈ جیسی گیسیں شامل ہو سکتی ہیں۔ ماہر فلکیات کواریماٹسو کے مطابق یہ دریافت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی نظامِ شمسی کے برفانی اجسام پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔