کرائے کے ماتمی،پیشہ ور افراد رونے کا معاوضہ لیتے ہیں

 کرائے کے ماتمی،پیشہ ور افراد رونے کا معاوضہ لیتے ہیں

نیروبی(نیٹ نیوز)دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں پرانی ایسی روایت بھی موجود ہے جہاں بعض لوگ غم منانے کیلئے باقاعدہ معاوضہ لیتے ہیں۔یہ ‘پیشہ ور ماتمی’ یا ‘موئیرو لوجسٹ’ کہلاتے ہیں۔۔۔

 قدیم مصر میں صرف بے اولاد خواتین کو ہی ماتم دار بننے کی اجازت تھی۔ قدیم روم میں بھی دولت مند خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے ۔ کینیا کے مغربی علاقوں میں جنازے سماجی اور روحانی روایت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ چین میں آج بھی بعض علاقوں میں جنازوں کے لیے پیشہ ور ماتم داروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ بھارتی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر، جیسلمیر، جودھ پور اور باڑمیر میں بھی یہ روایت موجود ہے ۔ برطانیہ میں کرائے کی ماتم داری کی روایت وکٹورین دور میں شروع ہوئی تھی،امریکا میں زیادہ تر کاسٹنگ ایجنسیوں، فری لانسرز اور مخصوص روایتی فیونرل ہومز کے ذریعے کام کرتی ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں