مغل بادشاہ گرمیوں میں برف کہاں سے لاتے تھے

 مغل بادشاہ گرمیوں میں برف کہاں سے لاتے تھے

لاہور(نیٹ نیوز)مغل دور میں جب نہ فریج موجود تھے اور نہ ہی بجلی، تب بھی شاہی خاندان گرمی کے موسم میں برف اور ٹھنڈے مشروبات سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ شہنشاہ ہمایوں، جلال الدین اکبر اور شاہ جہاں کے ادوار میں سردیوں میں ہزاروں مزدور پہاڑوں پر جا کر برف کے دیو قامت تودے کاٹتے تھے ۔

 مغلوں نے ایک تیز رفتار پاسبانِ نقل و حمل قائم کر رکھا تھا، جس میں گھوڑوں اور کشتیوں کے ذریعے برف کی کھیپ راتوں رات منزلِ تک پہنچائی جاتی تھی اسے محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ برف خانوں یا خصوصی عمارتوں میں منتقل کر کے محفوظ کردیا جاتا تھا۔یہ برف خانے زمین کے اندر کئی فٹ گہرائی میں بنائے جاتے تھے ۔ ان کی دیواریں اس قدر موٹی ہوتی تھیں کہ باہر کی تپش اور حرارت کو اندر داخل نہیں ہو نے دیتی تھیں۔ یہاں برف کو بھوسہ، کپڑا اور راکھ کی تہوں میں لپیٹ کر محفوظ کیا جاتا تھا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں