چین اور آسٹریا کے سائنسدانوں نے نیوکلیئرگھڑیاں بنالیں
ویانا، بیجنگ (نیٹ نیوز)آسٹریا اور چین کے سائنسدانوں نے وقت کی پیمائش کی ٹیکنالوجی میں اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی پہلی دو فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرلی ہیں۔
سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی دو علیحدہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور چین کی شنگھوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک دوسرے سے علیحدہ اور آزادانہ طور پر کام کرتے ہوئے تقریباً ایک ہی وقت میں یہ شاندار کامیابی حاصل کی۔ ماہرین نے واضح کیا کہ اس گھڑی کو نیوکلیئر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں وقت کی پیمائش کیلئے ایٹم کے بیرونی حصے میں موجود الیکٹرانز کے بجائے ایٹمی مرکزے کی توانائی کی تبدیلیوں کو استعمال کیا گیاہے ۔ یہ ایٹمی گھڑیاں حیرت انگیز حد تک درست ہیں اور اربوں سال میں تقریباً ایک سیکنڈ کے برابر فرق پیدا کرتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments