کریڈٹ کارڈ کی ایجاد کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی جانئے

 کریڈٹ کارڈ کی ایجاد کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی جانئے

نیویارک(نیٹ نیوز)1949 میں نیویارک کے ایک بزنس مین فرینک میک نامارا نے اپنے کلائنٹس کو ایک ہوٹل میں رات کے کھانے کے لیے مدعو کیا تھا ۔

مگر کھانے کے بعد انہیں علم ہوا کہ وہ بٹوہ گھر ہی بھول آئے ہیں جس کے باعث انہیں اپنی بیوی کو بلانا پڑا تاکہ ہوٹل کا بل ادا کیا جاسکے اور اس شرمندگی کے باعث ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ایک ایسا کارڈ تیار کیا جانا چاہیے جس کو متعدد ہوٹلوں میں کھانے کے بلوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاسکے ۔ فرینک میک نامارا اور ان کے کاروباری شراکت دار رالف سنائیڈر نے ڈائنرز کلب کے نام سے ایک کارڈ 1950 میں متعارف کرایا۔ابتدا میں اسے چارج کارڈ کہا جاتا تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ بیلنس کو ہر ماہ یک مشت مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ بینک آف امریکا نے 1958 میں بینک امریکارڈ متعارف کرایا جو آگے چل کر 1976 میں ویزا کارڈ بنا۔یہ پہلا گھومتا ہوا کریڈٹ کارڈ تھا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...