سسٹم اپ ڈیٹ کے نام پر لینڈ ریکارڈ سنٹر ز بند : اربوں روپے کا لین دین رک گیا
ای رجسٹریشن سنٹر اربن 1اور اربن 2میں تحصیل سٹی اور صدر کی جائیدادوں کے بیان، انتقال اور رجسٹریاں تعطل کاشکار جائیداد کی خریداری پر دی گئی ایڈوانس رقوم ضبط ہونے کا خطرہ بڑھ گیا:شہری،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو موقف دینے سے گریز اں
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )محکمانہ لاپروائی اور افسران کی غفلت کے باعث ریونیو کے معاملات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ سسٹم اپ ڈیٹ کے نام پر گزشتہ 10 روز سے لینڈ ریکارڈ سنٹرز میں کام بند پڑا ہے ۔ ای رجسٹریشن سنٹر اربن 1 اور اربن 2 میں رجسٹریاں، انتقال اور بیان اندراج نہ ہونے سے کروڑوں روپے کا لین دین رک گیا ہے ۔ سنٹرز میں کاؤنٹرز خالی، لائٹیں بند اور عملہ دفتر سے غائب پایا جا رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ مال میں بہتری کے نام پر مختلف تجربات جاری ہیں۔ پنجاب حکومت اور بورڈ آف ریونیو کی جانب سے نظام میں جدت لانے اور روایتی پٹوار سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاہم غیر پیشہ ورانہ اور ناتجربہ کار سٹاف کے باعث یہ تجربات شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن گئے ہیں۔ پہلے موضع جات کی ڈیجیٹائزیشن کے نام پر شہریوں کو کئی ہفتے خوار کیا گیا اور اب سسٹم اپ گریڈ کے باعث عوام مزید پریشان ہیں۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے خریدی گئی جائیدادوں کے ریکارڈ کا محافظ ہوتا ہے اور جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق سہولیات فراہم کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ سرکاری ٹیکس کولیکشن میں بھی یہی محکمہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے ، مگر موجودہ صورتحال میں یہ نظام شہریوں اور حکومت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سرور کی تبدیلی کے باعث متعلقہ ملازمین سسٹم آپریٹ نہیں کر پا رہے ، جبکہ ای رجسٹریشن سنٹر اربن 1 اور اربن 2 میں تحصیل سٹی اور تحصیل صدر کی جائیدادوں کے بیان، انتقال اور رجسٹریاں مکمل طور پر بند ہیں۔ اس تعطل کے باعث اربوں روپے کا لین دین رک چکا ہے اور سرکاری ٹیکس کولیکشن بھی معطل ہو گئی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جائیداد کی خریداری پر دی گئی ایڈوانس رقوم ضبط ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ، کیونکہ مقررہ مدت میں بیان اور رجسٹری نہ ہونے کی صورت میں بیانہ ضبط تصور کیا جاتا ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سسٹم اپ ڈیٹ سے قبل مکمل تیاری اور آئی ٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتیں۔ معاملے پر موقف کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا موسیٰ سے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔