سرکاری ہسپتالوں میں ادویات ، مشینری ، آلات کی کمی ، آؤٹ سورس کرنیکا منصوبہ فلاپ ہونے لگا
آر ایچ سیز اور بی ایچ یوزمیں خراب مشینری و آلات کی بحالی ایک چیلنج بن کر رہ گئی ،پرانی اور خراب مشینری کو قابل استعمال بنانے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ،ذرائع
سرگودھا(سٹاف رپورٹر)ضلع کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی قلت کے ساتھ ساتھ مشینری و آلات کی کمی کے باعث جہاں ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ فلاپ دکھائی دیتا ہے وہاں ہیلتھ روڈ میپ پر عملدرآمد بھی ایک چیلنج بن کر رہ گیا ہے جبکہ عوام بالخصوص دیہی علاقوں کے لوگو ں کو علاج معالجہ کیلئے بدستور دوہری مشکلات کا سامنا ہے ،ذرائع کے مطابق ضلع کے رورل ہیلتھ سنٹروں اور بی ایچ یوز میں 84اقسام کے عام استعمال ہونیوالے طبی آلات اور مشینری جن میں ایکسرے مشینیں، درجنوں آکسیجن سلنڈرز،آٹو کلوو، گلو میٹر،کمپیوٹرز، ڈیلوری ٹیبل، ڈیلیوری لائٹس،ای سی جی مشینیں، سٹرلائزر، نیوبلائزرز،ڈینٹل آپرٹس،بیڈز،اوٹی لائٹس،جنریٹرز وغیرہ شامل ہیں کی قلت کے باعث دیہی علاقوں میں علاج معالجہ کی سہولیات حکومت کے مقرر کئے گئے (Minimum Health Standard) کم سے کم معیار کے پیمانہ پر بھی پورا نہیں اتر رہیں،آر ایچ سیز اور بی ایچ یوزمیں خراب مشینری و آلات کی بحالی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے ذرائع کے مطابق بنیادی مراکز صحت کو آؤٹ سورس کرنے کے بعد یہ ذمہ داری پرائیویٹ پارٹنر ز کی ذمہ دار ی ہے تاہم پرانی اور خراب مشینری کو قابل استعمال بنانے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ،دوسری جانب حکومت دیہی علاقوں میں طبی سہولیات اور وسائل کی بہترین فراہمی کادعویٰ کر رہی ہے جبکہ لوگوں کو اب بھی شہر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔