پبلک لائبریری زبوں حالی کا شکار، قارئین کی تعداد میں کمی

پبلک لائبریری زبوں حالی کا شکار، قارئین کی تعداد میں کمی

ضلع کونسل کی عمارت کے ساتھ قائم لائبریری میں پہلے خواتین کیلئے الگ جگہ تھی نئی کتب کی خریداری اور سہولیات کی بہتری کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کیے جا سکے

ٹو بہ ٹیک سنگھ (میاں عاطف سعید ) کتابوں کے عالمی دن کے موقع پر بھی پبلک لائبریری کی حالت زار میں بہتری نہ لائی جا سکی، جبکہ پنجاب بھر میں ماڈل قرار دی جانے والی یہ لائبریری ضلعی انتظامیہ کی مبینہ عدم توجہ کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے ۔1987 میں ضلع کونسل کی عمارت کے ساتھ قائم کی گئی اس پبلک لائبریری میں ابتدا میں اسلامی، تاریخی، میڈیکل اور بچوں کی کتب کے الگ الگ سیکشنز سمیت تقریباً 25 ہزار نایاب کتب موجود تھیں، جبکہ خواتین کے لیے علیحدہ ریڈنگ روم بھی بنایا گیا تھا۔مزید برآں ضلع کے مختلف علاقوں میں چار ریڈنگ رومز بھی قائم کیے گئے تھے جن میں چک نمبر 339 ج ب (نیالاہور)، مل فتیانہ کمالیہ، چک نمبر 664/5 اور چک نمبر 296 گ ب شامل ہیں، تاہم یہ ریڈنگ رومز اب غیر فعال ہو چکے ہیں اور بعض پر مبینہ طور پر سرکاری اداروں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق 1995 میں آرمی افسران کی خصوصی ٹیم نے اس لائبریری کو پنجاب کی ماڈل لائبریری قرار دے کر پہلا نمبر دیا تھا، تاہم بعد ازاں نئی کتب کی خریداری اور سہولیات کی بہتری کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کیے جا سکے ۔فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف اخبارات و رسائل بند ہو چکے ہیں بلکہ قارئین نے بھی لائبریری کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے ۔علم دوست حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لائبریری میں فوری طور پر سہولیات بحال کی جائیں، نئی اور جدید کتب فراہم کی جائیں تاکہ طلباء اور عام شہری دوبارہ اس علمی مرکز سے استفادہ کر سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں