غیرقانونی بس اڈے ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد

غیرقانونی بس اڈے ڈی سیل کرنے کی استدعا مسترد

سرکاری اراضی تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کسی کو حق نہیں ٹرانسپورٹ سرگرمیاں صرف منظور شدہ ٹرمینلز سے ہی چلائیں،سندھ ہائیکورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے سپر ہائی وے پر واقع الآصف اسکوائر کے قریب بسوں کے غیر قانونی اڈے اور بکنگ آفس سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عوامی سڑکوں اور سرکاری زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں، عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ٹرانسپورٹ سرگرمیاں صرف منظور شدہ ٹرمینلز سے ہی چلائیں۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار علی سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اورنگزیب خان بنگش و دیگر کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بکنگ آفسز کو غیر قانونی طور پر سیل کیا گیا، انہیں بغیر نوٹس اور قانونی تقاضے پورے کیے کاروبار سے روکا گیا، لہٰذا حکومت کو ہدایت کی جائے کہ فوری طور پر ان کے دفاتر ڈی سیل کیے جائیں اور انہیں سرکاری بس ٹرمینل کے قیام تک اپنے دفاتر سے کاروبار چلانے کی اجازت دی جائے ۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ کئی دہائیوں سے انٹر سٹی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کا کاروبار کر رہے ہیں اور ان کے بکنگ آفسز سپر ہائی وے پر واقع ہیں جو ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں