کینسر مریضوں کی مہنگی ادویات ، لواحقین پریشان

 کینسر مریضوں کی مہنگی ادویات ، لواحقین پریشان

الائیڈ ہسپتال کے کینسر وارڈ میں داخل اور او پی ڈی کے مریض مارکیٹ سے سے ادویات لینے پر مجبور ،غریب مریضوں کیلئے مفت ادویات کا واحد ذریعہ بیت المال رہ گیا

فیصل آباد (عاطف صدیق کاہلوں)الائیڈ ہسپتال میں کینسر کے مستحق مریضوں کو مہنگی ادویات کی فراہمی کا مسئلہ گزشتہ کئی ماہ سے حل نہ ہو سکا ہے ، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق گزشتہ سال ہیلتھ کارڈ کی سہولت ختم ہونے کے بعد غریب مریضوں کے لیے مفت ادویات کا واحد ذریعہ بیت المال رہ گیا ہے ، تاہم مبینہ طور پر وہاں بھی سفارشی کلچر اور تاخیری عمل کے باعث مریضوں کو دواؤں کے حصول میں ہفتوں بلکہ بعض اوقات دو ماہ سے زائد کا وقت لگ جاتا ہے ۔اطلاعات کے مطابق الائیڈ ہسپتال کے کینسر وارڈ میں داخل اور او پی ڈی کے مریض کیمو تھراپی سمیت مختلف انتہائی مہنگی ادویات باہر کی مارکیٹ سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مریض کو علاج کے دوران 10 سے 12 ادویات درکار ہوتی ہیں جن کی مالیت تقریباً 50 سے 60 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے ۔مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بعض صورتوں میں ادویات کی فراہمی کے حوالے سے رجسٹرڈ ریکارڈ اور اصل صورتحال میں تضاد پایا جاتا ہے ، اور مبینہ طور پر باہر سے خریدی گئی ادویات کو بعد ازاں ہسپتال ریکارڈ میں مفت فراہمی کے طور پر شامل کر لیا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیت المال سے ادویات کے حصول کے لیے مریضوں کو طویل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات سفارش کے بغیر عمل مکمل نہیں ہوتا، جس کے باعث متعدد مستحق مریض یا تو فلاحی اداروں سے مدد لینے پر مجبور ہیں یا علاج میں تاخیر کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔دوسری جانب الائیڈ ہسپتال کے وائس چانسلر پنجاب میڈیکل کالج ڈاکٹر ظفر چودھری سے موقف لینے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جواب دینے سے گریزاں رہے ۔البتہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ الائیڈ ہسپتال ڈاکٹر فہیم یوسف نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ وارڈ میں داخل تمام مریضوں کو سو فیصد مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ او پی ڈی مریضوں کو بھی بیت المال یا نجی فلاحی اداروں کے ذریعے ادویات کی فراہمی کے لیے رجسٹریشن کے بعد بلا تاخیر بھجوا دیا جاتا ہے ۔مریضوں اور لواحقین نے حکومت پنجاب اور محکمہ صحت سے صورتحال کا نوٹس لینے اور مفت ادویات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں