میونسپل کارپوریشن میں مبینہ کرپشن، انکوائری سست

میونسپل کارپوریشن میں مبینہ کرپشن، انکوائری سست

سہولت بازار آئرن مارکیٹ ڈی ٹائپ کالونی میں واجبات کی عدم وصولی اور مبینہ غفلت سے سرکاری نقصان ، محکمانہ کارروائی بھی دبا دی گئی ، تحقیقات کا مطالبہ

فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)میونسپل کارپوریشن فیصل آباد میں سنگین نوعیت کی کرپشن، نااہلی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا انکشاف ہوا ہے ، جس کے باعث قومی خزانے کو 1 کروڑ 13 لاکھ 59 ہزار 168 روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔سہولت بازار آئرن مارکیٹ ڈی ٹائپ کالونی فیصل آباد میں واجبات کی عدم وصولی اور مبینہ غفلت کے باعث سرکاری نقصان ہوا۔ دستاویزات کے مطابق ارشاد حسین سمیت دیگر ملازمین کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر 2023 میں پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے تھے ، تاہم مبینہ ملی بھگت کے باعث یہ کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ذرائع کے مطابق متعلقہ ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹھیکیدار سے واجبات کی وصولی میں مجرمانہ غفلت برتی اور چیف آفیسر کے واضح احکامات کے باوجود سہولت بازار کو سیل نہ کیا۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ کلیکٹنگ آفیسر کی جانب سے ڈیما نڈ اینڈ کلیکشن رجسٹر کی درست دیکھ بھال، بقایا جات کی ریکوری اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے میں مبینہ طور پر غفلت برتی گئی،

جبکہ بعض ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر غیر قانونی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عرفان اقبال اور علی اصغر سمیت دیگر اہلکاروں پر بھی اختیارات کے غلط استعمال اور ملی بھگت کے ذریعے مالی نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جو محکمانہ نظم و ضبط اور شفافیت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔میونسپل کارپوریشن نے معاملے کی انکوائری کے لیے میونسپل آفیسر (فنانس) کو انکوائری آفیسر مقرر کیا تھا، تاہم انکوائری تاحال تعطل کا شکار ہے ۔شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور ادارے میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں