چنیوٹ کی بزرگ خاتون اور نوا سہ سندھ پولیس کی تحویل میں ، بازیابی کا مطالبہ
چنیوٹ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) چنیوٹ کی رہائشی بزرگ خاتون اور ان کے نواسے کی مبینہ طور پر 70 روز سے سندھ نواب شاہ پولیس کی غیر قانونی اور جبری تحویل کے خلاف متاثرہ خاندان کے وکیل اویس اکرم نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بزرگ خاتون کے داماد فلک شیر نے سندھ کے ایک سرکاری افسر کے خلاف خبر چلائی تھی، جس کی مبینہ طور پر سزا کے طور پر نانی اور نواسے کو نشانہ بنایا گیا۔وکیل کے مطابق 14 اور 15 مارچ کو خاتون اور ان کا نواسہ چنیوٹ آئے ہوئے تھے کہ رات تقریباً ایک بجے شہید بے نظیر آباد پل کے قریب پولیس نے انہیں کوچ سے زبردستی اتار لیا۔متاثرہ خاتون نسرین اختر کے بیٹے رضا حسنین نے اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ حیدرآباد کے دو رکنی بینچ میں مسنگ پرسنز کی آئینی درخواست دائر کر رکھی ہے۔وکیل کے مطابق 6 مئی کی سماعت پر متعلقہ ایس پی نے عدالت میں اعتراف کیا کہ خاتون اور بچہ پولیس کی تحویل میں ہیں، اس موقع پر لواحقین نے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ بزرگ خاتون اور معصوم بچے کو مبینہ جبری تحویل سے فوری بازیاب کرایا جائے ۔