اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ، شہری پریشان

اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ، شہری پریشان

گھی کی قیمتوں میں 50 سے 73 روپے فی کلو اضافہ ،کھجور کی قیمت بھی ڈبل

اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود اشیائے خورد و نوش، روزمرہ استعمال کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے بجائے ہوشربا اضافہ جاری ہے ، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔بازاروں میں ساڑھے چار سو روپے فی کلو فروخت ہونے والی ایرانی کھجور مختلف برانڈز کے سٹیکرز لگا کر 900 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے ۔ گھی کی قیمتوں میں 50 سے 73 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے ، جبکہ متعدد برانڈز کا گھی 650 روپے سے بڑھ کر 673 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے ۔چینی 140 روپے فی کلو کے بجائے کئی مقامات پر 160 روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔

دال چنا کی قیمت 240 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ کالے چنے 200 روپے سے بڑھ کر 248 سے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ 100 گرام کالی مرچ پاؤڈر کی قیمت 290 سے 310 روپے سے بڑھ کر بعض سٹورز پر 550 روپے سے زائد ہو گئی ہے ۔سرکاری نرخ 170 روپے فی لٹر ہونے کے باوجود کئی علاقوں میں دودھ 250 سے 270 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے ، جبکہ دہی کی قیمت میں بھی 50 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں بھنے ہوئے چنے ، صفائی ستھرائی کے کیمیکلز، سرف، ٹوتھ پیسٹ اور دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں 20 سے 160 روپے تک اضافہ ہوا ہے ۔ عوامی و تجارتی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مؤثر پرائس کنٹرول مہم کے ذریعے مصنوعی مہنگائی پر فوری قابو پایا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں