ٹیکسٹائل صنعت شدید بحران کا شکار، ایک لاکھ مزدور بیروزگار

ٹیکسٹائل صنعت شدید بحران کا شکار، ایک لاکھ مزدور بیروزگار

صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 15 روز میں متعدد کارخانے مکمل طور پر بند ہو سکتے

پینسرہ (نمائندہ دنیا)مانچسٹر آف پاکستان کہلانے والے صنعتی شہر فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت شدید بحران سے دوچار ہے ۔ صنعتی اور مزدور حلقوں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 15 روز کے دوران ایک لاکھ سے زائد مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 15 روز میں متعدد کارخانے ایک شفٹ پر منتقل ہونے یا مکمل طور پر بند ہونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔صنعتکاروں اور مزدور تنظیموں کے مطابق بحران کی بڑی وجوہات بجلی کے بلند نرخ، بھاری ٹیکس، پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ، چین سے سستے کپڑے کی مبینہ ڈمپنگ اور وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں ہیں، جنہوں نے مقامی ٹیکسٹائل صنعت کو شدید متاثر کیا ہے ۔مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں نہ تو چھوٹی صنعتوں کے لیے مؤثر ریلیف دیا گیا، نہ بجلی کے نرخ کم کیے گئے ، نہ پیداواری لاگت میں کمی کے لیے کوئی خصوصی پیکیج متعارف کرایا گیا اور نہ ہی مہنگائی کے تناسب سے مزدوروں کی اجرتوں میں اضافہ کیا گیا، جس سے بے روزگاری اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔چیئرمین پاکستان لیبر قومی موومنٹ بابا لطیف انصاری نے موجودہ صورتحال کو \"صنعتی ایمرجنسی\" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکسوں میں ریلیف، چینی کپڑے کی مبینہ غیر منصفانہ ڈمپنگ کی روک تھام، چھوٹی صنعتوں کے لیے خصوصی پیکیج اور مزدوروں کی اجرتوں میں حقیقی اضافہ نہ کیا گیا تو فیصل آباد کی صنعت مزید سنگین بحران کا شکار ہو سکتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...