آٹے نرخ میں کمی حکومتی کارروائیوں کا نتیجہ، چیف سیکریٹری سندھ
ذخیرہ اندوزوں سے 15لاکھ بوری گندم سرکاری تحویل میں لی جا چکی ، آصف حیدر غیر ظاہر شدہ، غیر قانونی ذخیرہ گندم کیخلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں، اجلاس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت گندم کی دستیابی، آٹے کی موجودہ قیمتوں، صوبے بھر میں گندم کی ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی ذخائر کے خلاف جاری مہم کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین چیف منسٹر انسپکشن ٹیم بلال میمن، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ، ایڈیشنل سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن بلاول ابڑو اور محکمہ خوراک کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ بھر میں غیر قانونی طور پر گندم ذخیرہ کرنے اور اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے روکنے والے عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انتظامی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق اب تک 15 لاکھ 44 ہزار 194 بوریاں گندم، جو ایک لاکھ 54 ہزار 419 اعشاریہ 40 میٹرک ٹن بنتی ہے ، سرکاری تحویل میں لی جا چکی ہے ۔ یہ مقدار رواں سال گندم خریداری مہم کے دوران حکومت کی جانب سے خریدی گئی گندم کے مجموعی حجم سے تقریباً دوگنا ہے ۔ چیف سیکریٹری نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور دیگر متعلقہ اداروں کی مربوط اور مؤثر کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مسلسل کارروائیوں سے ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی پر مبنی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوئی، مارکیٹ میں گندم کی دستیابی میں بہتری آئی اور اس کے نتیجے میں صوبے بھر میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے ڈویژنز میں فلور ملز مالکان اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس کیے ، جن میں گندم کی دستیابی اور آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔ مربوط انتظامی اقدامات اور فلور ملز انڈسٹری کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں کمی لائی گئی اور بہتر گندم رسد کا فائدہ براہِ راست صارفین تک منتقل کیا گیا۔ کراچی میں آٹے کی ایکس مل قیمت میں فی کلو 8 روپے کمی کی گئی، جبکہ لاڑکانہ میں آٹے کی ریٹیل قیمت 118 روپے فی کلو، حیدرآباد میں 125 ، سکھر میں 122 ، میرپورخاص میں 118 اور شہید بینظیر آباد میں 122 روپے فی کلو مقرر کی گئی۔ چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا آٹے کی قیمتوں میں کمی سندھ حکومت کی بروقت مداخلت اور ذخیرہ اندوزوں و ناجائز منافع خوروں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے ،حکومت عوام کو مصنوعی قلت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری انتظامی و قانونی اقدامات جاری رکھے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی لائسنس یافتہ تاجر کو گندم کی فروخت روکنے ، مصنوعی قلت پیدا کرنے یا قیمتوں میں ردوبدل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تمام لائسنس یافتہ تاجر قانون اور لائسنس کی شرائط کے مطابق کاروبار کرنے کے پابند ہیں۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ غیر ظاہر شدہ اور غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی گندم کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے گوداموں، فلور ملز، آٹا چکیوں، تجارتی مراکز اور دیگر ذخیرہ گاہوں کی باقاعدہ انسپکشن کی بھی ہدایت کی تاکہ ظاہر کردہ گندم کے ذخائر کی تصدیق کی جا سکے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جا سکے ۔ انہوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں گندم کے تاجروں، فلور ملز اور آٹا چکیوں کا تعلقہ وار جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جائے ، جس میں لائسنس کی حیثیت، ذخیرہ کرنے کی گنجائش، دستیاب گندم، روزانہ فروخت یا پسائی کے لیے جاری کی جانے والی گندم کی مقدار اور دیگر متعلقہ معلومات شامل ہوں۔ چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ اس ڈیٹا بیس کو روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ صوبے میں گندم کے ذخائر اور رسد کی مکمل نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments