ڈاکٹر شاہنواز کیس،نامزد اہلکاروں کی مقدمہ اخراج کی درخواست مسترد

ڈاکٹر شاہنواز کیس،نامزد اہلکاروں کی مقدمہ اخراج کی درخواست مسترد

نئی ایف آئی آر قانونی طور پر درست نہ ہونے کے باوجود ملزموں کو فائدہ نہیں دیا جا سکتامقدمہ ختم نہیں کیا جاسکتا، کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی ، سندھ ہائی کورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے میرپورخاص میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل کے مقدمے میں نامزد پولیس اہلکاروں عنایت علی اور دانش کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے نئی ایف آئی آر کا اندراج قانونی طور پر درست نہ ہونے کے باوجود اس تکنیکی خامی کی بنیاد پر ملزموں کو فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی اور محض قانونی طریقہ کار کی غلطی کی بنیاد پر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے سابقہ حکم میں صرف مقدمے کی تفتیش ایف آئی اے کو منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی، نئی ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسٹوڈیل ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ قانون کے تحت ایف آئی اے کو اس نوعیت کے مقدمات میں نئی ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔ عدالت کے مطابق موجودہ کیس میں پولیس کی پہلی ایف آئی آر پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہے ، جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کا چالان بھی متعلقہ عدالت میں جمع کرایا جا چکا ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ معاملہ بنیادی طور پر قانونی طریقہ کار کی تشریح میں غلطی کا ہے ، جسے مناسب قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے درست کیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی ادارے کی قانونی تشریح میں غلطی کی سزا ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔ سندھ ہائی کورٹ نے مزید حکم دیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کو پولیس کے مقدمے کے طور پر تصور کرتے ہوئے اس کی کارروائی قانون کے مطابق جاری رکھی جائے ۔ عدالت نے ان وجوہات کی بنا پر عنایت علی اور دانش کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...