ایک اور بچہ ایچ آئی وی کا شکار، تعداد 81 ہو گئی

ایک اور بچہ ایچ آئی وی کا شکار، تعداد 81 ہو گئی

تازہ کیس کے بعد ضیا کالونی سے تعلق رکھنے والے آفتاب خان کے چاروں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوگئے ،بیٹی اور دو بیٹوں کی رپورٹس مثبت آچکی ہیںخاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ،معطل ڈاکٹرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ آج بھی اسپتال کی مراعات استعمال کر رہے ہیں ،والد آفتاب خان کاالزام

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت سے سامنے آنے والے ایچ آئی وی آؤٹ بریک میں مزید ایک اور 10 سالہ بچے میں وائرس کی تصدیق ہوگئی، جس کے بعد متاثرہ بچوں کی تعداد 81 تک پہنچ گئی ہے ۔تازہ کیس کے بعد ضیا کالونی سے تعلق رکھنے والے آفتاب خان کے چاروں بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوگئے ،متاثرہ بچے کے والد آفتاب خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل ان کی 9 سالہ بیٹی میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ اس سے پہلے ان کے 12 سالہ اور 3 سالہ دو بیٹوں کی رپورٹس بھی مثبت آچکی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ اب 10 سالہ بیٹے کی رپورٹ بھی مثبت آنے کے بعد ان کے چاروں بچے وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو معمولی علاج کے لیے ولیکا اسپتال لے کر گئے تھے ، مگر مبینہ طبی غفلت کے باعث ان کے بچوں کو زندگی بھر کا موذی مرض لگ گیا۔والد کا کہنا تھا کہ ایک ایک کرکے چاروں بچوں کے متاثر ہونے سے ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے ۔آفتاب خان نے اسپتال انتظامیہ پر مزید سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جن ڈاکٹرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو معطل کیا گیا، وہ آج بھی اسپتال کی مراعات استعمال کر رہے ہیں اور ڈاکٹرز میس میں مقیم ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود اگر معطل افسران کو تمام سہولتیں حاصل ہیں تو پھر معطلی کا عملی مقصد کیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ اسپتال کے طبی عملے کا رویہ اب بھی غیر مناسب ہے ۔والد کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو نہ تو ٹیسٹوں کے نتائج اور شیڈول کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ادویات یا علاج سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ والد کا کہنا تھا کہ جب وہ معلومات کے لیے اسپتال انتظامیہ سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں سی ڈی سی سے رابطہ کرنے کا کہا جاتا ہے ، جبکہ سی ڈی سی حکام دوبارہ اسپتال انتظامیہ کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں متاثرہ والدین شدید ذہنی پریشانی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔متاثرہ بچوں کے والدین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے مقرر کیے گئے فوکل پرسن سعادت میمن کو تبدیل کیا جائے اور ان کی جگہ کسی بااختیار، ذمہ دار اور قابل اعتماد افسر کو تعینات کیا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...