زرعی شعبے کے مسائل کا حل ،اصلاحات ناگزیر: ماہرین
ایگری پالیسی، لا اینڈ گورننس سینٹر کے زیر اہتمام اجلاس میں اظہار خیال
فیصل آباد (سٹی رپورٹر)زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدت پر مبنی، جامع اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مشتمل اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔یہ بات زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایگری پالیسی، لا اینڈ گورننس سینٹر کے زیر اہتمام پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے آر اینڈ ڈی کلسٹر برائے پبلک پالیسی اینڈ اکنامک ڈیولپمنٹ کے تحت منعقدہ پالیسی راؤنڈ ٹیبل میں کہی گئی، جس کا عنوان \"زرعی پالیسی کی تشکیلِ نو: مضبوط اور مسابقتی زراعت کے لیے اداروں، منڈیوں اور جدت کا باہمی ربط\" تھا۔راؤنڈ ٹیبل میں ایگری پالیسی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف کامران، انڈونیشیا کی انڈالاس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اَر۔ رُودی فیبریامنسیہ، ڈاکٹر رضا اللہ، ڈاکٹر قیصر عباس، ڈاکٹر اظہر عباس، ڈاکٹر سمیع، ڈاکٹر جویریہ ناصر، عمارہ اعظم اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔پروفیسر ڈاکٹر اَر۔ رُودی فیبریامنسیہ نے انڈونیشیا میں غذائی تحفظ کی پالیسی، آبپاشی کے نظام، کسانوں کی کوآپریٹو سوسائٹیز اور زرعی توسیعی خدمات کے کامیاب تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ زرعی پالیسیوں کا محور صرف فصلوں کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، مؤثر زرعی منڈیوں اور جدت کے فروغ کے لیے سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مضبوط روابط پر استوار کیا جانا چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments