پابندی کے باوجود اٹھارہ ہزاری میں پولیتھین بیگز کا استعمال جاری
بیگز کے استعمال پر پابندی کے حکمنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے :شہری
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا) پابندی کے باوجود شہر اور گردونواح میں پولیتھین بیگز کا استعمال بند نہ ہوسکا، کھانے پینے کی اشیا بھی مبینہ طور پر کیمیکل زدہ پولیتھین بیگز میں فروخت کی جارہی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اٹھارہ ہزاری اور گردونواح میں دکانوں پر پولیتھین بیگز کا استعمال بدستور جاری ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی خرید و فروخت کے لیے بھی پولیتھین بیگز استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ اشیائے خورونوش بھی ان بیگز میں ڈال کر فروخت کی جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق پولیتھین بیگز کی تیاری میں مختلف کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ بیگز کو آپس میں چپکنے سے بچانے کے لیے بڑے رولز کے درمیان کیمیکل پاؤڈر بھی استعمال کیا جاتا ہے ، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پولیتھین بیگ میں گرم کھانے پینے کی چیز ڈالی جاتی ہے تو کیمیائی ردعمل کے باعث بیگ میں موجود مضر اجزا کھانے میں منتقل ہوسکتے ہیں، جو انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔مختلف شاپنگ سنٹرز، دودھ دہی کی دکانوں، پھل و سبزی، گوشت اور کریانہ کی دکانوں، فوڈ پوائنٹس اور ہوٹلوں میں سرعام پولیتھین بیگز استعمال کیے جارہے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیتھین بیگز کے استعمال پر پابندی کے حکمنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments