ایک اور سال تمام، علی پورچٹھہ کی محرومیوں کا ازالہ نہ ہوسکا

ایک اور سال تمام، علی پورچٹھہ کی محرومیوں کا ازالہ نہ ہوسکا

علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر )گزرا سال میں بھی علی پورچٹھہ کی محرومیوں کا ازالہ نہ ہوسکا ،عوامی مسائل جوں کے توں رہے اور سیاسی وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے ۔ 2022میں سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے دور میں وزیرآباد

کو ضلع اور علی پورچٹھہ کو تحصیل کا درجہ دیا گیا تھا مگر 3سال گزرنے کے باوجود تحصیل ہیڈکوارٹرز تاحال فعال نہ ہو سکا،مقامی سیاسی نمائندے تحصیل کو آپریشنل کر انے میں ناکام رہے جس کے باعث شہری معمولی انتظامی امور کیلئے بھی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 2013 کے انتخابی وعدے جن میں علی پورچٹھہ کیلئے سپورٹس سٹیڈیم اور ٹیکنیکل کالج کا قیام شامل تھا سال 2025 میں بھی وفا نہ ہو سکے لیکن حال ہی میں سرکاری اراضی کو واگزار کر کے چاردیواری شروع کر دی گئی ہے ۔ ممبر صوبائی اسمبلی عدنان افضل چٹھہ کا ٹراما سنٹر کا وعدہ بھی ہوا کی نذر ہو گیا جبکہ شہر کا ناقص سیوریج سسٹم، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی عدم دستیابی اور خستہ حال رابطہ سڑکیں شہریوں کیلئے مسلسل اذیت کا باعث ہیں ۔ سال 2025 کے دوران سیاسی سطح پر نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، مسلسل 4 بار منتخب ہونے والا چیمہ خاندان قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں ٹکٹ سے محروم رہا جبکہ ایم این اے احمد چٹھہ کو عدالتی سزا کے بعد نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ،مسلم لیگ (ن) کے بلال فاروق تارڑ بلا مقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے ۔ علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نیا سال علی پورچٹھہ کیلئے حقیقی معنوں میں ترقی، سہولتوں اور وعدوں کی تکمیل کا سال ثابت ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں