میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی حد بندی پر شہریوں کے اعتراضات

میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی حد بندی پر شہریوں کے اعتراضات

انتظامیہ پر آبادی کم دکھانے اور اربن ایریاز خارج کرنے کے الزامات عائد

 وزیرآباد (ڈسٹرکٹ رپورٹر )میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی حد بندی پر سیاسی وسماجی رہنمائوں کے شدید اعتراضات سامنے آ گئے ، شہریوں نے آبادی کم دکھانے اور اربن ایریاز خارج کرنے کے الزامات عائد کر دئیے ، کمشنر/ڈپٹی کمشنر ضلع وزیرآباد کو باضابطہ اعتراضات جمع کروا د ئیے گئے ۔ اعتراض کنندگان میں سابق ناظم خالد مغل، صدر انجمن تحفظ حقوق عوام افتخار احمد بٹ، سماجی رہنما پروفیسر حافظ منیر احمد، نائب صدر ڈسٹرکٹ بار عمران سمرا ایڈووکیٹ، صدر انجمن شہریاں میاں شہباز احمد سمیت متعدد شہری شامل ہیں۔اعتراضات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن کے مطابق میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی حدود میں صرف چند ریونیو اسٹیٹس شامل کئے گئے ہیں اور آبادی ایک لاکھ 81 ہزار 518 ظاہر کی گئی ہے جبکہ حقیقت میں شہر کی آبادی 2لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ، سوہدرہ، تلواڑہ اور دھونکل کو بلاجواز حد بندی سے خارج کر دیا گیا ہے ، قانون کے تحت اگر کسی مربوط شہری علاقے کی آبادی2لاکھ سے تجاوز کر جائے تو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جا سکتا ہے تاہم موجودہ حد بندی کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ آبادی کو جان بوجھ کر کم دکھایا جا سکے جو قانون کے منافی ہے ۔شہریوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حد بندی برقرار رہنے کی صورت میں صفائی، پانی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور شہری انفراسٹرکچر کے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے ، تحصیل کونسل پر غیر ضروری اربن بوجھ برقرار رہے گا اور شہری و دیہی انتظام میں توازن قائم نہیں رہ سکے گا۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ معاملے کا قانونی، انتظامی اور عوامی مفاد کے تناظر میں جائزہ لے کر انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں