قلعہ سیالکوٹ کی اصل حالت میں بحالی اطراف میں 200 دکانیں مسمار کرنے کا فیصلہ

قلعہ سیالکوٹ کی اصل حالت میں بحالی اطراف میں 200 دکانیں مسمار کرنے کا فیصلہ

5000ہزار سال قدیم قلعہ کی بحالی کیلئے 12 رکنی کمیٹی قائم ، قیام پاکستان کے بعد تعمیرات کرنیوالوں سے 7روز میں ملکیت کے ثبوت طلب، عدم ثبوت پر تجاوزات مسمار ،اراضی قلعہ میں شامل کی جائیگی

سیالکوٹ (عمر فاروق )قلعہ سیالکوٹ کے اطراف 200 دکانوں کو مسمار کرنے کا فیصلہ، حکومت پنجاب کے تجاوزات ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے میونسپل حکام، محکمہ مال ،اوقاف حکام پر مشتمل 12 رکنی کمیٹی قائم کی جو 5 ہزار سال قدیم قلعہ کو اصل حالت میں بحال کرنے کیلئے قلعہ کے اطراف چوک شہیداں، قلعہ بازار، لوہا بازار، بازار کھٹیکاں اور میونسپل کمپلیکس کے عقب میں غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے مالکان سے انکی ملکیت کے ثبوت حاصل کرے گی اور ثبوت ملکیت فراہم نہ کرنے والے تجاوزات دہندہ کی عمارتوں کو مسمار کردیا جائیگا،مذکورہ اراضی قلعہ کی حدود میں شامل کردی جائے گی ۔حکام کا کہنا ہے کہ 78 سال قبل قیام پاکستان کے بعد دکانداروں اور دیگر بااثر افراد نے قلعہ کی اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات تعمیر کرلی ہوئی ہیں تاہم مذکورہ 200 دکانداروں اور مالکان کو 7 دن کے اندر ثبوت ملکیت میونسپل حکام کے حوالے کرنے کے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔ ثبوت ملکیت پیش نہ کرنے پر تجاوزات مسمار کرکے اراضی قلعہ سیالکوٹ میں شامل کرلی جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں