نجی کمپنیوں کے ذریعے گندم خریداری پالیسی پر کسان پریشان

نجی کمپنیوں کے ذریعے گندم خریداری پالیسی پر کسان پریشان

نئی پالیسی کی حتمی منظوری نہیں دی گئی ، اپریل کے پہلے ہفتے خریداری کا آ غاز نا ممکن پاسکو کی ریزرو قیمت 4150 مقرر کرکے کسانوں سے گندم خریدی جائے :امان اللہ

حافظ آباد(نامہ نگار، نمائندہ دُنیا )کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی نائب صدر امان اﷲ چٹھہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نجی کمپنیوں کے ذریعے گندم خریداری کی جو نئی پالیسی اعلان کی گئی ہے اس پر عملدرآمد تاحال غیر واضح ہے کیونکہ اس کی حتمی منظوری کا عمل مکمل نہیں ہوا، اس کے علاوہ خریداری مراکز کے قیام اور باردانہ کی تقسیم جیسے بنیادی انتظامات بھی شروع نہیں کیے جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ انہی خامیوں کے باعث اپریل کے پہلے ہفتے میں گندم خریداری کا آغاز شیڈول کے مطابق ممکن دکھائی نہیں دیتا جس سے کسانوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔

امان اﷲ چٹھہ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال بھی ذخیرہ اندوزمافیا نے کم قیمت پر گندم خرید کر بعد ازاں 4700 روپے من تک فروخت کی جس سے نہ صرف کسانوں بلکہ عام صارفین کو بھی شدید نقصان پہنچا تاہم حکومت کی جانب سے اس صورتحال پر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 3500 روپے من کی موجودہ تجویز کے بجائے پاسکو کی گندم نیلامی کی ریزرو قیمت 4150 روپے فی من مقرر کر کے کسانوں سے براہ راست خریداری کو یقینی بنایا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو سنگین غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں