ہائیکورٹ کا پرووائس چانسلر کی تقرری قانون کیمطابق کرنیکا حکم
چانسلر یونیورسٹی آف گجرات پٹیشنر اور دیگر متعلقہ فریقین کا موقف سنیں‘ جسٹس عابد چٹھہ
گجرات (نامہ نگار )لاہور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی آف گجرات میں پرو وائس چانسلر کے عہدے پر تقرری کے معاملے میں انتظامیہ کی مبینہ کوتاہی اور تاخیری حربوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسے قانونی تقاضوں کے مطابق حل کرنے کا حکم دے دیا ۔ یہ اہم پیشرفت یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر اور KFUIT رحیم یار خاں کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سلیمان طاہر کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن کے نتیجے میں سامنے آئی ہے ۔عدالت میں دائر درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی آف گجرات ایکٹ 2004 کی دفعہ 14-A کے تحت گورنر پنجاب؍چانسلر پابند ہیں کہ وہ سب سے سینئر پروفیسر کو پرو وائس چانسلر تعینات کریں تاہم، پٹیشنر کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے مستعفی ہونے والے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظہورالحق نے جان بوجھ کر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو سینئر پروفیسرز کے نام بھیجنے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت تقرری کے عمل کو تاخیر کا شکار کیا جبکہ استعفیٰ دینے کے باوجود انہوں نے جامعہ گجرات کا ایڈیشنل چارج بھی پاس رکھا ہوا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد حسین چٹھہ نے سماعت کے بعد تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ پٹیشنر کی شکایت جو چانسلر کے پاس زیر التوا ہے ، کا قانون کے مطابق جلد فیصلہ ہونا ضروری ہے ۔ عدالت نے پٹیشن کو بطور نمائندگی چانسلر یونیورسٹی آف گجرات کو بھجواتے ہوئے حکم دیا کہ وہ پٹیشنر اور دیگر متعلقہ فریقین کا موقف سنیں اور قانون کی روشنی میں ایک واضح اور مدلل حکم کے ذریعے اس معاملے کو اس حکم نامے کی مصدقہ کاپی موصول ہونے کے بعد ترجیحاً 30 دنوں کے اندر حل کریں۔