دو بجٹ میں تعلیمی شعبہ کو نظر انداز کر دیا گیا ،اسلامی جمعیت طلبہ
مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرینگے ،پریس کانفرنس
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ صاحبزادہ وسیم نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 نوجوانوں، طلبہ اور شعبہ تعلیم کے لیے شدید مایوسی کا باعث ہے ۔ ملک کو درپیش سنگین تعلیمی چیلنجز کے باوجود حکومت نے تعلیم کو ترجیحی شعبہ بنانے کے بجائے اسے نظر انداز کیا ہے ، جس کے باعث تعلیمی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر تعلیمی شعبے کے حوالے سے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو اسلامی جمعیت طلبہ ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرنا حکومت کی غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے ۔ ملک بھر کی جامعات پہلے ہی مالی مشکلات، بڑھتے اخراجات اور انتظامی مسائل کا شکارہیں، جبکہ ناکافی فنڈنگ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مزید کمزور کرے گی۔صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جو ایک قومی المیہ ہے ، مگر وفاقی بجٹ میں اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر جامع اور ہنگامی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری کے بغیر ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔