ایچ نائن بازارمیں آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری رپورٹ آگئی

ایچ نائن بازارمیں آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری رپورٹ آگئی

آگ کو ابتدائی طور پر اپنی مدد آپ کے تحت بجھانے کی کوشش ، جس سے زیادہ تباہی ہوئی فائر سیفٹی آڈٹ،ترپال کے استعمال ، سٹالز آگے کرائے پر دینے پر پابندی لگائی جائے ،رپورٹ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر)سی ڈی اے ایچ نائن بازار میں آ تشزدگی کے واقعے پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی نے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ ابتدائی طور پر سٹال نمبر C 432اور C433میں لگی، جس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی نے سکیورٹی سٹاف سمیت متعدد دکانداروں کے بیانات ریکارڈ کیے ۔ رات 9:45 بجے لگنے والی آگ کو ابتدائی طور پر اپنی مدد آپ کے تحت بجھانے کی کوشش کی گئی، تاہم فائر بریگیڈ کو 9:51 پر فون کیا گیا اور 10:02 بجے فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی بازار میں داخل ہوئی۔واقعے کے بعد موقع پر پہنچنے والے پہلے افسر اے سی آئی نائن 9:57 بجے پہنچے ، امدادی سرگرمیوں میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، راولپنڈی ریسکیو کی ٹیموں، جناح کنونشن سینٹر فائر ٹینڈرز اور نیول ہیڈ کوارٹرز واٹر براؤزرز نے بھی حصہ لیا۔ رات 1:20 منٹ پر آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا تھا۔انکوائری رپورٹ میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ، جن میں وینڈرز کی جانب سے سٹالز میں اضافی سامان رکھ کر بطور گودام استعمال کرنا، سٹالز آگے کرائے پر دینے کی وجہ سے فائر سیفٹی سٹینڈرڈ کا خیال نہ رکھنا، اور آگ لگنے کے وقت فائر ٹینڈر اپنی ڈیوٹی کے مقام پر موجود نہ پائے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ تاہم ریسکیو سروسز کے مطابق فائر ٹینڈر پانی بھرنے کے لیے روانہ تھا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آگ لگنے کے فوری بعد ریسکیو سروسز کو آگاہ کرنے کی بجائے چوکیدار خود آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے ، اور اچانک لگنے والی آگ کو کنٹرول کرنے کے لیے بازار میں سہولیات ناکافی تھیں۔ تاہم آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین فارنزک ٹیم کی رپورٹ کے مطابق کیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے بازار کا فائر سیفٹی آڈٹ اور ترپال کے استعمال پر پابندی لگائی جائے ، کمیٹی ،سٹالز آگے کرائے پر دینے والوں کی الاٹمنٹ فوری منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں