سی کے ڈی اور پرزوں پر ٹیرف برقرار رکھنا نقصا ن دہ
سی بی یو درآمدات پر سی کے ڈی ٹیرف کا فرق نصف کرنا درست نہیں ،نمائندے آٹو انڈسٹری
اسلام آباد(دنیا رپورٹ)آ ٹو انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا 2 پہیوں والی گاڑیوں پر سی بی یو ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ جبکہ سی کے ڈی اور پرزوں پر ٹیرف برقرار رکھنا کسی واضح اور وقت کے ساتھ طے شدہ روڈ میپ کے بغیر آٹو انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔یکم جولائی سے لاگو ہونے والے نئے ٹیرف کے مطابق سی بی یو درآمدات اور سی کے ڈی اسمبلی کے درمیان مؤثر ٹیرف کا فرق نصف کر دیا گیا ہے جو 35 فیصد پوائنٹس سے کم ہو کر 15 فیصد پوائنٹس رہ گیا ہے ۔ اس سے قبل سی بی یو پر ٹیرف50% جبکہ سی کے ڈی پر 15%تھا جو اب کم ہوکر سی بی یو پر 30% اور سی کے ڈی پر 15% کی سطح پر آگیا ہے ۔ٹیرف کا فرق کم ہونے سے ایک غیر منطقی صورتحال پیدا ہو گئی ہے ، کیونکہ مکمل درآمد شدہ سی بی یو موٹر سائیکل پر ٹیرف 30% ہے جو مقامی طور پر تیار شدہ/لوکلائزڈ پرزوں پر لگنے والے 46% ٹیرف سے بھی کم ہے ۔آٹوموٹیو انڈسٹری کے ماہر جمیل اصغر کا کہنا ہے کہ\"تاریخی طور پر یہی فرق او ای ایمز کے لیے مقامی اسمبلی اور سورسنگ میں سرمایہ کاری کا بنیادی معاشی محرک رہا ہے ۔