ڈی پی سی کا اجلاس ،45کیسز کی منظوری ،58موخر ،65 مسترد
اساتذہ اورکلیئریکل سٹاف کی گریڈوائز ترقیوں کے حوالے سے قائم کمیٹی 190 کیسز پیش ہوئے ٹیچرز یونین کے تحفظات،اجلاس منسوخ ،غیر جانبدار افسر کی سربراہی میں منعقد کرنیکا مطالبہ
راولپنڈی(خاورنوازراجہ )ضلع راولپنڈی میں اساتذہ اورکلیئریکل سٹاف کی گریڈوائز ترقیوں کے حوالے سے قائم کمیٹی (ڈی پی سی) کے اجلاس میں 190 اساتذہ کے کیسز پیش ہوئے جن میں سے صرف 45 کی منظوری دی گئی ہے ، 58 موخر اور 65 مسترد کردیئے گئے ہیں ، اساتذہ کی ترقیوں کے کیسز کے مسترد ہونے پر پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس منسوخ کرکے غیر متنازع اور غیر جانبدار افسر کی سربراہی میں دوبارہ منعقد کرنے کا مطالبہ کردیا۔پنجاب ٹیچرز یونین کی جانب سے گزشتہ روز سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کوشکایات کیں ہیں جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ راولپنڈی میں منعقدہ ڈی پی سی کے دوران متعدد اساتذہ اور کلریکل سٹاف کے ترقیاتی کیسز پر غیر ضروری اعتراضات عائد کیے گئے۔
خط کے مطابق ڈی پی سی کے لیے ابتدا میں ایک غیر جانبدار محکمانہ نمائندہ مقرر کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے تبدیل کرکے ڈویژنل ڈائریکٹر عفت نسیم کو محکمانہ نمائندہ مقرر کیا گیا۔ ڈی پی سی میں ڈی ای او ایلیمنٹری میل کی جانب سے پیش کیے گئے 72 ترقیاتی کیسز میں صرف 16 منظور، 2 مشروط جبکہ 54 مؤخر کیے گئے ۔ ڈی ای او ایلیمنٹری فیمیل کے 23 کیسز میں سے صرف ایک کیس منظور ہوا، DEO سیکنڈری کی جانب سے پیش کیے گئے مرد اساتذہ کے 90 کیسز میں 25 منظور اور 65 مسترد کیے گئے ۔خط میں بتایا گیا کہ SST/EST فیمیل کے کیسز تاحال زیر التوا ہیں، جبکہ جونیئر کلرک سے سینئر کلرک ترقی کے 5 کیسز میں صرف ایک منظور اور 4 مؤخر کیے گئے ۔پنجاب ٹیچرز یونین نے ان اعدادوشمار کو ڈی پی سی کے عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کے حوالے سے تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال سے اساتذہ اور کلریکل کمیونٹی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments