ڈیجیٹلائزیشن ، انشورنس کو عام شہری کی پہنچ میں لائیں گے ، کبیر سدھو

 ڈیجیٹلائزیشن ،  انشورنس کو عام شہری کی پہنچ میں لائیں گے ، کبیر سدھو

انشورنس سیکٹر کے اثاثے تقریباً 4 ٹریلین اور سالانہ پریمیم 708 ارب روپے تک پہنچ چکے معلومات تک آسان رسائی کیلئے ‘‘انشورڈ پاکستان’’ ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کرنیکا اعلان

 اسلام آباد(دنیا رپورٹ )چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا ہے کہ انشورنس کی رسائی بڑھانے ، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور صارفین کو سستی مصنوعات فراہم کرنے کے لیے انشورنس سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے ۔ایس ای سی پی ٹاک سیریز کے تحت انشورنس مارکیٹ کی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انشورنس سیکٹر کے اثاثے تقریباً 4 ٹریلین روپے اور سالانہ پریمیم 708 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، تاہم انشورنس کی شرحِ نفوذ جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے ۔چیئرمین نے کہا کہ صرف 0.85 فیصد انشورنس پریمیم ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے، جو اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔

ایس ای سی پی جدید اور صارف دوست ڈیجیٹل مصنوعات کے فروغ کے ساتھ کلیمز کی بروقت، شفاف اور منصفانہ ادائیگی کے لیے بھی اہم اصلاحات کر رہا ہے ۔انہوں نے عوام کو انشورنس مصنوعات اور معلومات تک آسان رسائی دینے کے لیے ‘‘انشورڈ پاکستان’’ ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کرنے کا اعلان کیا۔ سی ای او سٹیٹ لائف شعیب جاوید نے کہا کہ ملک میں 42 انشورنس کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور صنعت تقریباً 450 ارب روپے کے کلیمز ادا کر چکی ہے ۔ انشورنس سیکٹر ملکی انفراسٹرکچر میں 200 سے 500 ارب روپے تک سرمایہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے ۔سی ای او ای ایف یو لائف محمد علی احمد نے بتایا کہ پنشن فنڈز کے اثاثے اگست 2026 تک 156 ارب روپے تک پہنچ گئے ، جو جنوری 2021 کے مقابلے میں 333 فیصد اضافہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...