چڑیا گھر سے مادہ ریچھ کی منتقلی ، متعلقہ حکام کو نوٹس
محکمہ وائلڈ لائف کو فریق بنانے کی اجازت ، سماعت 25فروری تک ملتوی صرف رانو ریچھ نہیں ،دیگر جانوروں کی زندگی بھی اہم ہے ، درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں کراچی چڑیا گھر کی مادہ ریچھ کی قدرتی ماحول میں منتقلی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے درخواست کی استدعا میں ترمیم کے معاملے پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت 25 فروری تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے محکمہ وائلڈ لائف کو فریق بنانے کی استدعا منظور کر لی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وکیل کے ایم سی اور درخواست گزار کی جانب سے الگ الگ ترمیمی درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔ کے ایم سی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ریگولر بینچ کے روبرو جو درخواست دائر کی گئی تھی اس پر عملدرآمد ہو چکا ہے ، لہٰذا موجودہ درخواست غیر موثر ہو چکی ہے اور اسے نمٹا دیا جائے ۔ وکیل کے ایم سی نے بتایا کہ ریگولر بینچ کے روبرو دائر درخواست میں صرف رانو ریچھ کی منتقلی کی استدعا کی گئی تھی اور رانو ریچھ کو اسلام آباد منتقل کیا جا چکا ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ ریگولر بینچ نے دیگر جانوروں سے متعلق بھی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست کی استدعا میں ترمیم منظور کی جائے اور درخواست کو مزید سنا جائے کیونکہ صرف رانو ریچھ ہی نہیں بلکہ چڑیا گھر کے دیگر جانوروں کی زندگی بھی اہم ہے ۔ انہوں نے استدعا کی کہ کمیٹی تشکیل دی جائے ۔