میونسپل افسران کو ملازمت پر بحال نہ کرنے پرسرکاری وکیل سے جواب طلب
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں میونسپل افسران کو ملازمت پر بحال نہ کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار منٹھار سمیت 47 افسران کو 2012 میں میونسپل افسر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا تاہم 2016 میں انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ وکیلِ درخواست گزار اسد اللہ بلو نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کو جعلی بھرتیوں کے الزامات کے تحت نکالا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں سپریم کورٹ نے معاملہ چیف سیکریٹری کو اسکرُوٹنی کے لیے بھیجا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انکوائری کمیٹی کی کارروائی کے بعد دیگر افسران کو بحال کر دیا گیا تاہم درخواست گزار منٹھار اور یاسین کو تاحال بحال نہیں کیا گیا جو امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ عدالت نے سندھ حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مکمل جواب جمع کرایا جائے۔