ٹنڈوباگو:بی آئی ایس پی کی رقم سے کٹوتی،خواتین کا مظاہرہ
فی کس 1ہزار سے 1500کاٹے جارہے ،اب مافیا نے دیہات کا رخ کرلیاعید قریب، فوری مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاج جاری رہے گا، مظاہرین
پنگریو (نمائندہ دنیا) ٹنڈوباگو میں بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی قسط میں مبینہ طور پر 1ہزار سے 15سو روپے کٹوتی اور قسط کی عدم ادائیگی کے خلاف سیکڑوں خواتین نے شہر کے مرکزی ڈویژن چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت کونسلر جناں ملاح، پٹھانی ملاح، عائشہ جمالی، بھاگی، ساران قزبانو خاصخیلی اور لال خاتون لاشاری نے کی۔ متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا کہ عید میں ایک ہفتہ رہ جانے کے باوجود ٹنڈوباگو میں متعلقہ ڈیوائس مافیا شہری خواتین کو انکم سپورٹ کے پیسے ادا نہیں کر رہی ۔ خواتین کے مطابق مافیا شہر کے بجائے دیہی علاقوں میں جا کر وہاں کی خواتین سے 1500 روپے فی کس وصول کر کے رقم تقسیم کر رہا ہے ۔ خواتین نے مزید کہا کہ انہیں مختلف جواز بتا کر پیسے فراہم نہیں کیے جا رہے ، جس کی وجہ سے وہ روزانہ سینٹر کا چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بی آئی ایس پی رقم میں سے ناجائز کٹوتی کرنے ولی ڈیوائس مافیا کے خلاف فوری کارروائی اور مستحق خواتین کو رقم فراہم کی جائے تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ علاوہ ازیں متاثرہ خواتین نے ڈپٹی ڈائریکٹر بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ٹنڈوباگو میں من پسند ڈیوائس مافیا کو اختیار دے کر عام دیہی علاقوں میں خواتین سے ناجائز کٹوتی کرا رہے ہیں۔ خواتین نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اس معاملے کا حل نہ نکالا گیا تو احتجاج جاری رہے گا۔