میرپور خاص:پاناما بیماری کے حملے سے کیلے کے باغات تباہ

میرپور خاص:پاناما بیماری کے حملے سے کیلے کے باغات تباہ

ٹنڈو الٰہیار، ٹھٹھہ، نوابشاہ، حیدرآباد، سانگھڑ، عمر کوٹ میں بھی باغات شدید متاثرمرض کا موثر علاج نہیں، ٹشو کے ذریعے تیار پودے لگائے جائیں، ماہرین کی رائے

میرپور خاص (بیورو رپورٹ)میرپورخاص سمیت گردونواح کے اضلاع میں کیلے کے باغات پر پاناما بیماری کا شدید حملہ ہوا ہے ، جس کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کھڑے کیلے کے باغات تباہ ہو گئے ۔ یہ مرض میرپورخاص کے علاوہ ٹنڈو الہیار، ٹھٹہ، نوابشاہ، حیدرآباد، سانگھڑ، عمرکوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے یہ بیماری پہلی بار سندھ میں 2012 میں سامنے آئی، جو 2015 میں شدت اختیار کر گئی، اور اب مزید پھیل چکی ہے ۔ چودہ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود محکمہ زراعت اس کا مؤثر علاج تلاش نہیں کر سکا، جس کے باعث کاشتکاروں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سندھ ملک کی کل کیلے کی پیداوار کا تقریباً 91 فیصد فراہم کرتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق کیلے کی کاشت کے لیے ٹشو کلچر کے ذریعے تیار پودے لگانے کا مشورہ دیا ہے ۔ یہ بیماری دنیا کے دیگر ممالک جیسے جنوبی افریقہ، فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویتنام، چین، بھارت اور آسٹریلیا میں بھی پھیل چکی ہے ، کاشتکاروں نے بتایا کہ یہ بیماری ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہ مٹی میں دہائیوں تک زندہ رہ سکتی ہے اور پانی زرعی آلات، پودوں کے حصوں اور مٹی کے ذریعے پھیلتی ہے ، ایک بار آنے کے بعد اس کا خاتمہ انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اس بیماری کے باعث کیلے کے پودے کمزور ہو کر سوکھ جاتے ہیں، پھل چھوٹا رہ جاتا ہے اور قیمت بھی گر جاتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں