فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کاقانون اسلامو فوبیا کی بدترین مثال

فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کاقانون اسلامو فوبیا کی بدترین مثال

حکومت پاکستان بل کی منظوری کیخلاف ہرفورم پرآواز بلند کرے ، تنظیم اسلامیمسلمان قیدی کو سزائے موت کیخلاف اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا، شجاع الدین

حیدر آباد ؓیورو رپورٹ)اسرائیلی کنیسٹ کا جیلوں میں قیدفلسطینی مسلمانوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دینے کا بِل منظور کرنا اسلاموفوبیا کی بدترین مثال ہے ۔حکومتِ پاکستان اس انسانیت سوز بِل کی منظوری پر اسرائیل کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے ۔اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 30 مارچ کو اسرائیلی کنیسٹ نے روایتی اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک انتہائی امتیازی اور انسانیت سوز بِل کی پہلی منظوری دی ہے جس کے مطابق جو فلسطینی مسلمان اپنے گھروں پرصیہونی آبادکاروں کے قبضے کی کوشش کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے کسی صیہونی کو قتل کر دیگا، اس پر مقدمہ عام عدالتوں کے بجائے فوجی عدالتوں میں چلایا جائے گا، جس سے مسلمان قیدی کو سزائے موت دینے کا عمل بھی آسان ہو جائے گااوراس سے سزا کے خلاف اپیل کا حق بھی چھین لیا جائے گا۔ اگر اِس بِل کو کنیسٹ دو مرتبہ اور منظور کر لیتی ہے تو اِسے قانون کا درجہ حاصل ہو جائے گا اور ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کی جیلوں میں قید مسلمانوں کو 90 دن کے اندر پھانسی دینا لازمی قرار پائیگا۔ صیہونیوں کی درندگی اور اسلام دشمنی کا یہ عالم ہے کہ یہ بہیمانہ قانون صرف فلسطینی مسلمانوں پرہی لاگو ہو گا جبکہ یہودیوں کو جو آئے دن فلسطینی مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں اِس قانون سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں