ملیر کورٹ:فراڈ کیس درخواست ضمانت مسترد ہونے پرملزم فرار
بصیر نے گلشن حدید میں 700 سے زائد شہریوں سے اربوں روپے کا فراڈ کیا تھاسندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ کیس کی سماعت، 5 شہریوں کی واپسی پردرخواستیں نمٹا دیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملیر کورٹ میں گلشن حدید میں 700 سے زائد شہریوں سے اربوں روپے فراڈ کے مقدمے میں عدالت نے ملزم بصیر احمد کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، جس کے بعد ملزم عدالت سے فرار ہوگیا۔ سماعت کے دوران وکیل مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے خلاف تھانہ اسٹیل ٹاؤن میں وقاص چوہدری کی مدعیت میں چیک باؤنس کا مقدمہ درج ہے ، اور ملزم نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گلشن حدید میں شوروم قائم کر رکھا ہے ۔ وکیل عباس زر ایڈووکیٹ کے مطابق ملزم گلشن حدید، گھگھر پھاٹک اور دیگر علاقوں میں 700 سے زائد افراد کرچکا ہے ، جبکہ ملزم مختلف افراد سے گاڑیاں خرید کر انہیں چیکس دیتا ہے جو بعد ازاں باؤنس ہو جاتے ہیں۔ وکیل مدعی مقدمہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے وقاص چوہدری سے دو گاڑیاں خرید کر ادائیگی کے لیے دو چیکس دیے جو باؤنس ہو گئے ، لہٰذا ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں اور اسے جیل بھیجا جائے ۔ ادھر سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران پولیس نے لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ سعد نذیر، نصیب گل، کامران، ساقی حسین اور بشیر احمد گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔ عدالت نے شہریوں کی واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بازیابی سے متعلق درخواستیں نمٹا دیں، تاہم دیگر لاپتہ شہریوں سے متعلق آئی جی، محکمہ داخلہ اور دیگر سے رپورٹ طلب کرلی۔