میٹرک امتحانات کے تیسرے روز بھی بد نظمی ، فرنیچر کی عدم دستیابی ، بجلی کی بندش برقرار
بعض امتحانی مراکز میں طلبہ موبائل فون سے نقل کرتے رہے ،لوڈشیڈنگ سے طلبہ کے لیے شدید گرمی میں پرچہ دینا دشوار،فرنیچر کی کمی کے باعث طالبات چٹائیاں بچھا کر بیٹھنے پرمجبور
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)میٹرک بورڈ کے سالانہ امتحانات کا تیسرا روز بھی بدنظمی کا شکار رہا بعض امتحانی مراکز میں طلبہ موبائل فون سے نقل کرتے رہے جبکہ فرنیچر کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ نے زمین پر چٹائی بچھا کر پرچہ دیا، بجلی کی بندش بھی برقرار رہی۔ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے تیسرے روز صبح کی شفٹ میں حیاتیات کا پرچہ منعقد ہوا۔ شہر بھر میں قائم 521 امتحانی مراکز میں تقریباً 3 لاکھ 85 ہزار 529 سے زائد طلبہ و طالبات امتحانات دے رہے ہیں، جبکہ مراکز کے اطراف دفعہ 144 بھی نافذ ہے ۔میٹرک بورڈ چیئرمین غلام حسین سوہو نے بھی امتحانی مراکز کا دورہ کیا مگر اس کے باوجود مختلف علاقوں خصوصاً ملیر میں قائم امتحانی مرکز میں مبینہ طور پر طلبہ کو موبائل فون کے ذریعے پرچہ کرنے اور اجتماعی نقل کی سہولت دی گئی تھی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کالا بورڈ میں قائم امتحانی مرکز میں کھلے عام طلباء نقل کرتے رہے۔
جبکہ امتحانات کے دوران کئی مراکز پر بجلی کی بندش نے بھی طلبہ کو مشکلات سے دوچار رکھا، جس کے باعث شدید گرمی میں پرچہ دینا مزید دشوار ہو گیا۔ادھر لیاری کے ایک سرکاری اسکول میں قائم امتحانی مرکز میں فرنیچر کی کمی کے باعث طالبات کو زمین پر چٹائیاں بچھا کر امتحان دینا پڑا۔ ذرائع کے مطابق ڈیسک اور کرسیوں کی قلت کے باعث انتظامیہ متبادل انتظام کرنے میں ناکام رہی، جس سے طالبات کو جسمانی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔والدین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امتحانات جیسے اہم مرحلے پر اس قسم کی بدانتظامی ناقابلِ قبول ہے اور یہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے والدین کیلئے بھی بیٹھنے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہوتی تین گھنٹے تک والدین بھی باہر دھوپ میں بیٹھے انتظار کرتے ہیں بورڈ کی جانب سے انتظامات کیے جانے چاہئیں۔