650متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی پر عدالت برہم،نیب افسر سے رپورٹ طلب
متاثرین کی بڑی تعداد ہائی کورٹ پہنچ گئی،ملزمان کو21اپریل کوپیش ہونے کا حکم
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے گلشن روفی اسکیم 33 میں 650 متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی کے کیس میں نیب اور دیگر متعلقہ حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ملزمان کو طلب کر لیا۔سماعت کے دوران سینکڑوں بزرگ متاثرین انصاف کیلئے عدالت پہنچ گئے ۔بلڈرز کے وکیل کی عدم حاضری پر ان کے ایسوسی ایٹ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سینئر وکیل وفاقی آئینی عدالت میں مصروف ہیں، اس لیے پیش نہیں ہو سکے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کر رہے اور نہ ہی نیب کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کیے جا رہے ۔ وکیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے 2020 میں بلڈر کو الاٹیز کو پلاٹس دینے کا حکم دیا تھا اور نیب کو بھی پابند کیا گیا تھا کہ وہ متاثرین کو پلاٹس کی فراہمی میں معاونت کرے ، تاہم ان احکامات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔ عدالت نے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب کے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ کے ساتھ طلب کر لیا اور ملزمان کو 21 اپریل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔