مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پاکستانی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کا خدشہ
نیویارک: (ویب ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پاکستانی معاشی ترقی کی شرح میں کمی کا خدشہ ظاہر کردیا۔
آئی ایم ایف کی ریجنل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ میں تقریباً 0.6 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ اور مالی خسارے پرمنفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے، کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً 0.3 فیصد تک متاثرہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 7.2 ارب ڈالر کا پروگرام معاشی استحکام اوراصلاحات پرمرکوز ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت اور مہنگائی پرمزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ تیل کی قیمتوں میں10فیصداضافہ معیشت کونقصان اور مہنگائی میں اضافہ کرسکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق خلیجی ممالک سے تیل اور ترسیلات زر پر زیادہ انحصار پاکستان کیلئے خطرات ہیں، جنگ طویل ہونے کی صورت میں تجارت اور ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کیلئے قرض لینا مزید مہنگا ہوگیا ہے، عالمی مالی حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں پاکستان پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیادہ قرض اوربینکوں کی حکومتی سیکیورٹیزمیں سرمایہ کاری سےمالی خطرات بڑھ سکتے ہیں، آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کے باعث تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ خطے میں جنگ بندی مثبت پیش رفت ہے تاہم غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔