یا اللہ مسلمانوں کے حالات بہتر کر دے، یکجہتی عطا فرما دے: خطبہ حج

مکہ مکرمہ: (دنیا نیوز) مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے خطبہ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اپنے عہد کی پاسداری کرو۔

ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے خطبہ حج دیا کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرایا جائے، رب کے سوا کسی غیر کی عبادت مت کرنا، توحید پر عملدرآمد اہل ایمان کا خاصا ہے، ایمان والوں کے سامنے اللہ کی آیات پیش کی جائیں تو ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔

خطبہ میں کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں، نبی اکرم ﷺ خاتم النبین ہیں، مسلمانوں کو ہر مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، صبر کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھائیں، جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔

 انہوں نے کہا کہ اللہ اور بندے کا تعلق نجات کا ذریعہ ہے، اے ایمان والو، اپنے رب کے ساتھ جڑے رہو، حج کے دوران کسی قسم کے لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہئے، کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جس سے وحدت کو نقصان پہنچے۔

ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور غلط بیانی سے گریز کریں، بدعت اور غیبت سے دور رہو، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔

خطبہ میں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں یکجہتی عطا فرمائے، گواہی دیتا ہوں حضور ﷺ اللہ کے بندوں میں سب سے بہترین ہیں، اللہ فرماتا ہے، آخرت سے ڈرو اور اس کی تیاری کرو، قیامت کا دن بہت دردناک ہے۔

خطبہ میں مزید کہا گیا کہ قیامت کے دن ماں بچوں اور بچے ماں کو بھول جائیں گے، توحید اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جو ایمان لاتا ہے، اللہ ان کا دفاع اور مدد کرتا ہے۔

خطیب مسجد نبویؐ نے دعا کی کہ اے اللہ ہمارے گناہ معاف فرما، یااللہ مسلمانوں کے حالات کو بہتر کر دے، اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال قبول فرمائے، اے اللہ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما۔

خیال رہے کہ میدانِ عرفات کی حدوود میں طلوعِ آفتاب سے اب تک سولہ لاکھ عبادت گزاروں کا ہجوم موجود ہے، غروب آفتاب کے بعد حجاج عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ مغرب اور عشا کی نمازیں قصر اور جمع کی صورت میں ادا کرنے کے بعد شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے اور بعدازاں صبح سویرے طلوع فجر کے ساتھ ہی وادی منیٰ روانہ ہو جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں