افغان طالبان رجیم کا خواتین دشمن چہرہ بے نقاب

کابل: (دنیا نیوز) غاصب طالبان رجیم میں افغان خواتین کے بنیادی انسانی حقوق سلب، تعلیم، صحت اور روزگار پر قدغنیں برقرار ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی خصوصی دستاویزی رپورٹ میں طالبان رجیم کا خواتین دشمن چہرہ ایک بار پھر آشکار ہوگیا۔

بی بی سی کی حالیہ خصوصی دستاویزی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے خواتین سے تمام بنیادی آزادیاں اور حقوق چھین لیے ہیں، افغانستان پر طالبان رجیم کے قبضے کے بعد سخت پابندیوں کے باعث افغان خواتین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئیں ہیں، تعلیم اور روزگار سے محروم لاکھوں افغان لڑکیاں طالبان رجیم کے ظلم و ستم کے باعث جبری شادیوں کی بھینٹ چڑھنے لگیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے اپنی جابرانہ پالیسیوں کیخلاف اٹھنے والی خواتین کی آوازوں کو بندوق کے زور پر دبا دیا، خواتین کو معاشرے میں فعال کردار دینے کے افغان طالبان کے وعدے محض زبانی جمع خرچ اور حقیقت سے کوسوں دور نکلے، قابض افغان طالبان رجیم خواتین کیخلاف منظم امتیازی سلوک مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے میں مصروف ہے۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں نے نہ صرف خواتین کے حقوق بلکہ ملکی معیشت اوربین الاقوامی ساکھ کوبھی شدید نقصان پہنچایا، افغانستان میں خواتین پر پابندیاں ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہیں جومساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے متصادم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں