چین: نمک اور آئینوں سے سستی بجلی بنانے کی نئی ٹیکنالوجی متعارف
بیجنگ: (ویب ڈیسک) چین نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے نمک اور ہزاروں آئینوں کی مدد سے سستی بجلی پیدا کرنے کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا دی۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی روشنی کو منعکس کرکے ایک مرکزی ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں، جس کی بلندی تقریباً 80 منزلہ عمارت کے برابر ہے، ٹاور کے اندر موجود بڑی مقدار میں نمک سورج کی شدید حرارت سے 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو جاتا ہے۔
یہ گرم نمک خصوصی محفوظ ٹینکوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں اس کی حرارت سے پانی کو بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہے، بھاپ ٹربائن چلا کر بجلی پیدا کرتی ہے، جسے لاکھوں گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
چینی حکام کے مطابق اس نوعیت کے مزید منصوبے بھی زیرِ تعمیر ہیں، جو مجموعی طور پر 3 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چین نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2030 تک اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے 15 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ نمک حرارت کو طویل وقت تک محفوظ رکھتا ہے، جس کے باعث سورج غروب ہونے کے بعد بھی تقریباً 11 گھنٹے تک بجلی کی پیداوار جاری رکھی جا سکتی ہے، جبکہ عام لیتھیم بیٹریاں محدود دورانیے تک ہی بیک اپ فراہم کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین کلین انرجی منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر پاکستان کے صحرائی علاقوں میں بھی ایسے منصوبے شروع کیے جائیں تو ملک میں سستی اور متبادل توانائی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔