غیر قانونی دیوہیکل بل بورڈز کی بھرمار، شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر
عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی، متعلقہ اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان،کارروائی کا مطالبہ
کراچی (این این آئی) شہر قائد کی مرکزی شاہراہوں سمیت مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر نصب دیوہیکل بل بورڈز شہریوں کے لیے سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے اس پر موثر کارروائی نہ ہونے پر شہریوں میں تشویش بڑھ گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے 5 مئی 2016 کو پبلک پراپرٹی پر بل بورڈز اور ہورڈنگز لگانے پر واضح پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے عام ان احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے ۔ مگر ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں متعلقہ اداروں کے سربراہان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم بھی دیا تھا، تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث غیر قانونی بل بورڈز کی تنصیب میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ماہرین کے مطابق یہ بھاری بھرکم ڈھانچے کسی بھی ہنگامی صورتحال یا تیز آندھی کے دوران انسانی جانوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔علاقہ مکینوں اور شہری حلقو ں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر قانونی بل بورڈز کو ہٹائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔