سندھ ہائیکورٹ جاری ترقیاتی منصوبوں پر برہم

سندھ ہائیکورٹ جاری ترقیاتی منصوبوں پر برہم

دنیا بھر میں ایسا نہیں ہوتا کہ پوری سڑک کھود دی جائے ،پہلے متبادل راستے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو مشکلات نہ ہوں،عدالت کے ریمارکس تاخیر کی وجہ کنٹریکٹر نہیں حکومتی نااہلی ،وکیل درخواست گزار،معاملہ چھ سال کا نہیں بلکہ 2022 کے کنٹریکٹ سے متعلق،ایڈووکیٹ جنرل سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کے دفتر کو سیل کیے جانے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے فریقین سے وضاحت طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سل جیسر اور جسٹس نثار احمد بھمبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جہاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرایا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جواب کی نقول وکیل درخواست گزار کو فراہم کی جائیں۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈائریکٹر سفاری پارک کی سفارش پر کمشنر کراچی نے ڈپٹی کمشنر کو کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد مختیار کار، پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ فورس نے دفتر سیل کردیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کارروائی کس قانون کے تحت کی گئی اور مختیار کار کو کسی بھی پراپرٹی کا قبضہ لینے کا اختیار حاصل نہیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ زمین کے ایم سی کی ملکیت ہے تاہم سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت کے ایم سی بھی اس طرح اراضی واپس نہیں لے سکتی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے عدالت کو بتایا کہ 2022 میں زمین تین برس کے لیے دی گئی تھی اور اس میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔ جسٹس سلیم جیسر نے کہا کہ اگر کنٹریکٹر کرایہ ادا کر رہا تھا تو اسے قابض نہیں کہا جا سکتا جبکہ ممکن ہے کہ انسانی غلطی کے باعث کے ایم سی کو فریق نہ بنایا گیا ہو۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت ڈی سیل کرنے کا حکم دے بھی دے تو بعد میں قبضہ لینے کا طریقہ کار کیا ہوگا اور کے ایم سی کو ہدایات کیسے دی جا سکتی ہیں جبکہ وہ فریق ہی نہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی اظہارِ برہمی کیا۔

جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسا نہیں ہوتا کہ پوری سڑک کھود دی جائے ، جبکہ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ پہلے متبادل راستے بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو مشکلات نہ ہوں۔ انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں کے معیار پر بھی سوال اٹھایا کہ اپنے ممالک میں اور یہاں کام کے معیار میں فرق کیوں ہوتا ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ منصوبے میں تاخیر کی وجہ کنٹریکٹر نہیں بلکہ حکومتی نااہلی ہے ، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ یہ معاملہ چھ سال کا نہیں بلکہ 2022 کے کنٹریکٹ سے متعلق ہے اور منصوبے کی لاگت 16 ارب سے بڑھ کر 31 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں